کشمیر، ایک اور پروفیسر کیخلاف مقدمہ

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
امتحان کے پرچہ میں ’فحش‘ سوال شامل کرنے کے الزام میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی پولیس نے مقامی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کے خلاف باقاعدہ معاملہ درج کیا ہے۔
شاد رمضان بھارتی ساہتیہ اکادمی سے اعزاز یافتہ کشمیری ادیب ہیں اور کشمیر یونیورسٹی کے شبعہ ’کشمیر سٹڈیز‘ کے پروفیسر ہیں۔
انہوں نے بی اے امتحانات میں کشمیری زبان کا پرچہ ترتیب دیا ہے جس میں خواتین کے اعضاء کی نشونما کے بارے میں ایک مطبوعہ اقتباس ترجمہ کرنے کو کہا گیا تھا۔
اس معاملہ کی تفتیش کررہے پولیس افسر مقصودالزمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شاد رمضان کو خلاف فحاشی کی تشہیر اور فحش طرز تحریر اپنانے کے جرم میں عنقریب گرفتار کیا جائےگا کیونکہ ان کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں یہ دوسرے پروفیسر ہیں جس کے خلاف امتحانی پرچہ میں ’قابل اعتراض‘ سوال پوچھنے پر قانونی چارہ جوئی کی جارہی ہے۔
اس سے قبل پولیس نےگاندھی میموریل کالج میں انگریزی کے پروفیسر نور محمد کو سنگ بازی سے متعلق سوال پرچے میں شامل کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
ایس پی مقصودالزمان نے بتایا کہ دراصل نورمحمد سے متعلق کیس کی تفتیش کے دوران ہی انہیں کشمیری پرچہ کے بارے میں معلوم ہوا۔ بی اے فرسٹ ایئر کے کشمیری زبان پرچہ میں طلباء کو خواتین کی جسمانی نشونما اور پستان کی بناوٹ سے متعلق ایک اقتباس ترجمہ کرنے کو کہا گیا تھا۔
کشمیر یونیورسٹی کے ناظم امتحانات علی محمد شاہ نے بتایا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد ایک ماہر پروفیسر کو پرچہ کا جائزہ لینے کو کہا گیا۔ ’ہم اس بارے میں ایکشن لیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم پروفیسر شاد رمضان اس کیس سے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سازش ہے۔ ’میں اسے دانشورانہ دہشتگردی کہوں گا۔ میں نے طب یونان کی ایک مستند کتاب سے یہ اقتباس لیا ہے۔ اگر میڈیکل سائنس میں ہم یہ سب پڑھتے پڑھاتے ہیں تو کشمیری زبان میں کیا حرج ہے۔‘
اس معاملہ کی وجہ سے یہاں کے سماجی اور ادبی حلقوں میں بحث چھڑگئی ہے۔ ادیبوں کا ایک حلقے کا ماننا ہے کہ مستند معلومات کا ایک حصہ کشمیری زبان میں ترجمہ کرنے کو فحاشی کا نام دینا جاہلیت ہے۔
سرور دیلنوی کہتے ہیں کہ وکی لیکس نے دنیا بھر کے راز فاش کردیئے، لیکن جولین اسانژ کو رہا کرنا پڑا کیونکہ یہ اظہار رائے کی آزادی کا مسئلہ تھا اور پھر ہم تو زندگی کے ہر شعبہ کی معلومات کو کشمیری میں ترجمہ کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ ’اگر ہم حقائق کو فحاشی کہنے لگے تو پھر ساری انگریزی کتابوں کو جلانا ہوگا۔‘



















