کشمیر: کئی ہزار کنبے سفر کے حق سے محروم

بشارت بابا
،تصویر کا کیپشنبشارت کو ویزا دینے سے انکار کردیا گیا تھا
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
  • وقت اشاعت

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم انسانی حقوق گروپوں کا دعویٰ ہے کہ مقامی حکومت نے ساٹھ ہزار سے زائد کشمیری کنبوں کو سفری حقوق سے محروم رکھا ہے۔

اس سلسلے میں ان گروپوں کے مشترکہ فورم کولیشن آف سِول سوسائیٹیز یا سی سی ایس نے ہندوستان اور دوسرے ملکوں میں سفارتی مہم کو تیز کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

تاہم حکومت نےپاسپورٹ نہ دیئے جانے کی جائز شکایتوں پر فوری عمل کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ جانچ پڑتال کا سلسلہ سلامتی کے حوالے ناگزیر ہے۔

سی سی ایس کے سربراہ پرویز امروز نے بی بی سی کو بتایا: ’یہاں کی خفیہ ایجنسیوں نے تریسٹھ ہزار ایسے کنبوں کی فہرست تیار کی ہے جن کا کوئی رشتہ شدت پسند تھا۔‘

مسڑ امروز کہتے ہیں ان کنبوں کے افراد کو پاسپورٹ نہیں دیا جاتا حالانہ عالمی قوانین جن پر بھارت نے دستخط کئے ہیں کے مطابق ہر فرد کو دنیا کے کسی بھی ملک میں جانے اور واپس آنے کا حق ہے۔

بیس سالہ بشارت بابا اُن ہزاروں کشمیری نوجوانوں میں سے ہیں جن کا ماضی ان کی ترقی کے آڑے آرہا ہے۔ اُبھرتے ہوئے فٹ بال کھلاڑی بشارت دو سال قبل برازیل میں ہوئے فٹ بال کے مقابلے کے لئے منتخب ہوئے تھے، لیکن انہیں محض اس لئے پاسپورٹ نہیں ملا کہ ان کے والد ایک مسلح گروپ سے ساتھ وابستہ تھے۔

حالانکہ ان کے والد تشدد کا راستہ ترک کرکے جیل بھی کاٹ چکے ہیں اور اب تجارت میں مصروف ہیں، لیکن بشارت اپنے ماضی کو اپنی زندگی کی بڑی روکاٹ سمجھ رہے ہیں۔

بشارت کہتے ہیں: ’میرے والد جب شدت پسند تھے میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ بات مجھے پاسپورٹ دفتر میں معلوم ہوئی۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ میرے والد کی خطا پر مجھے سزا کیوں دی جا رہی ہے۔‘

حالانکہ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی مداخلت کے بعد بشارت کو پاسپورٹ مل گیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ بشارت کی زندگی پر بھارتی فلم ساز اشوِن کمار نے ’انشااللہ فٹ بال‘ عنوان سے جو فلم بنائی ہےان کی نمائش پر حکومت ہند نے پابندی عائد کردی ہے۔

عمرعبداللہ حکومت میں نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کے وزیر راجندر سنگھ چِب نے بی بی سی کو بتایا:’حکومت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ لیکن جانچ پڑتال کا عمل ضروری ہے۔ اگر ایجنسیوں کو لگتا ہے کہ کوئی کھلاڑی کسی غلط نیت سے باہر نہیں جاتا ہے تو اسے پاسپورٹ ملنا چاہیئے۔‘

تاہم انسانی حقوق ادارے حکومت کی جانچ پڑتال پالیسی کو ناقص قرار دے رہے ہیں۔ پرویز امروز کہتے ہیں: 'پاسپورٹ نہ دینا تو الگ بات، ہمارے پاس ایسی مثالیں ہیں کہ جو شدت پسند ہے اسے پاسپورٹ دیا جاتا ہے، لیکن اس کے رشتہ داروں کو نہیں دیا جاتا محض اس لئے وہ کسی شدت پسند کے رشتہ دار ہیں۔ یہ تو ناقص انتظامیہ کی حد ہے۔‘

مسٹر امروز کا کہنا ہے کہ کشمیر میں حالات سدھارنے کا کوئی بھی عمل تب تک کامیاب نہیں ہوگا جب حکومت ہند عام معافی کا اعلان نہیں کرتی۔ ’جب لوگوں کو اجتماعی سزا دی جارہی ہو تو امن عمل کا کیا ہوگا؟'