دو ہزار دس کے دوران بھارت میں پیش آنے والے اہم واقعات کا تصویری جائزہ
،تصویر کا کیپشنالہ آباد ہائی کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں ایودھیا میں مسمار کی گئی بابری مسجد کے مقام کو رام جنم بھومی قرار دیا اور اس جگہ کے دو حصے ہندوؤں کو اور ایک سنّی وقف بورڈ کو دینے کا فیصلہ سنایا۔ بعد میں دونوں فریقوں نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
،تصویر کا کیپشنماؤ نواز باغیوں نے رواں برس حکومت کے ’آپریشن گرین ہنٹ‘ کے خلاف جو مہم چلائی اس کے تحت انہوں نے جہاں سکیورٹی فورسز پر حملے کیے وہیں بسوں اور ریل گاڑیوں بھی نشانہ بنایا۔
،تصویر کا کیپشندو عشروں بعد اس برس بھوپال گیس سانحہ پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ملزمان کو دو دو برس قید کی سزا سنائی تو ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا جس کے بعد حکومت نے بالآخر مقدمہ از سر نو چلانے کا فیصلہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دو ہزار دس کا سال انسانی بحرانوں کی تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔ مظاہرین پر فائرنگ سے ایک سو بارہ ہلاکتیں، مہینوں بستیوں کے محاصرے، گرفتاریاں اور دوسری زیادتیوں کی شدت واقعی تاریخ ساز تھی۔
،تصویر کا کیپشنموبائل کمپنیوں کو ٹو جی سپیکٹرم ٹھیکے دینے کے معاملے ہوئی مبینہ بدعنوانی کا معاملہ سیاسی سطح پر ایک بڑا واقعہ رہا جس کے نتیجے میں ٹیلی مواصلات کے مرکزی وزیر اے راجا کو استعفی دینا پڑا۔ ایک تخمینے کے مطابق اس معاملے میں حکومت کو تقریبا ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔
،تصویر کا کیپشنٹو جی سپیکٹرم کے حوالے سے ہی کارپوریٹ مشیر نیرا راڈیا کی ٹیپ کی گئی فون گفتگو ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی جس میں ملک کے کئی سینیئر صحافیوں کے نام بھی سامنے آئے۔ اس انکشاف سے پتہ چلا کہ حکومت میں وزارتوں کی تقسیم کے لیے بھی کارپوریٹ سیکٹر کے لوگ لابیئنگ کر رہے تھے۔
،تصویر کا کیپشنملک میں کئی سطح پر ہوئی بدعنوانی کے سوال پر عدالت نے سخت رویہ اپنایا اور وزیراعظم کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے، سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ میں ہو رہی بدعنوانی معاملوں پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس کا قلع قمع کرے۔
،تصویر کا کیپشناپوزیشن رہنماؤں نے پہلے تو مشترکہ پارلیمان کا مطالبہ کیا اور پھر جب عام اشیاء کی قیمتیں پھر سے بڑھنے لگیں تو حکومت پر دباؤ بنانے کے لیے داارلحکومت دلی میں ایک بڑی ریلی منعقد کی گئی جس میں کئی اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنبہار میں نتیش کمار کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے تین چوتھائی سے زیادہ سیٹیں جیت کر دوسری بار اقتدار سنبھالا۔ میڈیا اور نتیش کمار دونوں نے کہا کہ بہار کی عوام نے ترقی کے لیے ووٹ دیے ہیں۔ ان انتخابات میں لالو پرساد یادو اور رام ولاس یادو کو بھاری شکست کا سامنہ کرنا پڑا اور لالو پرساد یادو نے کہا کہ بہار کے عوام کو ترقی کے نام پر گمراہ کیا جارہا ہے۔
،تصویر کا کیپشننیرا راڈیا کی فون پر ہوئی بات چیت کے عام ہونے سے رتن ٹاٹا کا نام بھی سامنے آیا اس بات چیت اور بعد میں ایک حریف راجیو چندر شیکھر کے خط نے رتن ٹاٹا کی صاف ستھری شبیہہ کو داغدار کیا۔انہوں نے اپنی شبیہہ بچانے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی ہے۔ دوسری جانب ایک کے بعد ایک نینو میں آگ لگنے کے واقعہ کے بعد بازار میں اس کار کی مانگ میں کمی آئی اور ٹاٹا کو نینو کا اشتہار شروع کرنا پڑا۔
،تصویر کا کیپشنرواں برس کامن ویلتھ کھیل دلی میں منعقد ہوئے۔ ہندوستان کی کارکردگی اچھی رہی لیکن کھیلوں کے انتظام سے زیادہ ان میں ہونے والے گھپلوں کا چرچا رہا۔ کامن کھیلوں کی کمیٹی کے صدر سریش کلماڈي اور انکے ساتھیوں سے سی بی آئی بدعنوانی کے معاملات سے متعلق پوچھ گچھ کر رہی ہے اور کئی اہلکاروں کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمرکز میں حکمراں جماعت کانگریس کی مصیبتیں آندھرا پردیش میں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ ریاست کے سابق وزیر اعلی وائی ایس آر ریڈی کے بیٹے جگموہن ریڈی باغی رہے اور تیلنگانہ کا مسئلہ جوں کا توں رہا۔ کے روسیا کو وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹاکر کرن ریڈی کو وزیراعلی بنایا گیا جبکہ جگموہن کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنکامن ویلتھ گیمز کا انعقاد ہو، یا مہاراشٹر میں آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی کا معاملہ یا پھر مواصلاتی گھپلوں پر تنازعہ ملک میں کرپشن ایک بڑا مسئلہ رہا۔ سونیا گاندھی نے کامن ویلتھ گیمز میں بدعنوانی کے ذمہ داران کو سزا دینے کا اعلان کیا تو وہیں وزیراعظم نے کہا کہ مواصلاتی گھپلوں کے معاملے میں ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں۔حکومت ان معاملوں سے بیشتر پر چپ رہی۔
،تصویر کا کیپشنٹو جی سپیکٹرم اور کامن ویلتھ کھیلوں میں ہوئی مبینہ بد عنوانی کا معاملہ پارلیمان میں بھی چھایا رہا۔ متحدہ اپوزیشن نے اس کے لیے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا اور حکومت نے تسلیم نہیں تو اس قدر ہنگامہ آرائی رہی کہ سرمائی اجلاس بغیر کسی کام کے ہی ختم ہوگيا۔
،تصویر کا کیپشنریاست چھتیس گڑھ کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کے کارکن ونائیک سین کو عمر قید کی سزاسنائی۔ چھتیس گڑھ کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف آوازیں اٹھیں اور دلی سمیت پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ذیلی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔