نوٹ چھاپنے میں ٹیکنالوجی سے مدد

بھارتی نوٹ
،تصویر کا کیپشن کئی لاکھ جعلی نوٹ اس وقت بینکنگ سسٹم کا حصہ بن چکے ہیں
وقت اشاعت

ہندوستان میں تمام کوششوں کے باوجود بھی جعلی نوٹوں کا چلن بڑھتا جارہا ہے جس کی روک تھام کے لیے حکومت نے اعلی قسم کی تکنیکی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملک کی معیشت اور سکیورٹی کے حوالے سے جعلی نوٹ حکومت کے لیے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے جس کے لیے اس نے کئی طرح کی کوششیں بھی کی ہیں لیکن اب تک اس غیر قانونی کام کو روکا نہیں جا سکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اب بھارتی روپے کو ایک نیا رنگ اور روپ دیا جائیگا اور اس کے لیے ایسی تکنیک کا استعمال ہوگا جس کی دستیابی مشکل ہوگي۔

جو ایجنسیاں روپے کو چھاپتی ہیں انہیں حکومت نے ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ روپے کی چھپائی میں کئی نئے تکنیکی پہلوؤں کو شامل کریں تاکہ دوسروں کے لیے ا سکی نقل کرنا مشکل ہو جائے۔

نئی تجاویز کے تحت نوٹ میں فائبر اور رنگ بدلتی روشنائی استعمال کی جائیگي۔ نوٹ کے ڈیزائن میں بھی تبدیلیوں کی بات کہی گئی ہے۔

کچھ روز پہلے سرکاری ایجنیسیوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ جعلی نوٹوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جار ہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی بینکنگ کے طریقہ کار میں اس وقت تقریباً اسّی لاکھ جعلی نوٹ چل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس سلسلے میں ہورہی کوششوں کے نتیجے میں اکتوبر کے مہینے تک تقریبا پچاس لاکھ فرضی نوٹوں کی نشان دہی کی جا چکی ہے۔

بھارتی حکومت کو اندیشہ ہے کہ جعلی نوٹوں کا استعمال غیرقانونی کارروائیوں اور ممنوعہ بزنس میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس معاملے پر نظر رکھنے کے لیے حکومت نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے