’جارحیت سے رشتوں میں بہتری نہیں آئے گی‘

ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مثبت رشتوں کی اہمیت سمجھے گا اور جارحانہ رویہ ترک کر دے گا۔
ادھر پاکستان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پورے خطے میں امن و استحکام کا قیام انتہائی مشکل ہے اور تمام معاملات صرف بھارتی خواہشات کے مطابق طے نہیں کیے جا سکتے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ایس ایم کرشنا نے کہا ’بھارت نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ رشتے بہتر کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں۔ ہم دل سے امید کرتے ہیں کہ ہمارا پڑوسی ہمارے ساتھ مثبت رشتوں کی اہمیت کو سمجھے گا اور زبردستی جارحیت کا رویہ چھوڑ دے گا‘۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’پاکستان سے صرف ہم یہ امید کرتے ہیں وہ اپنے کنٹرول والے علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کر دے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک سنجیدہ اور مستقل بات چیت شدت پسندی سے پاک ماحول میں ہی ممکن ہے۔
ایس ایم کرشنا نے کہا کہ ’آج کی دنیا میں شدت پسندی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔چاہے وہ پھر اس میں کسی حکومت کا ہاتھ ہو یا نہ ہو۔ شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کی ضرورت ہے‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بھارت دورے سے انہیں کافی امیدیں ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اس دورے کی کوئی تاریخ نہیں بتائی لیکن ان کا کہنا تھا بھارت پاکستان کے ساتھ باہمی بات چیت کے ذریعے سبھی مسائل پر بات چیت کرنا چاہتا ہے۔
خیال رہے کہ ایس ایم کرشنا نے گزشتہ برس جولائی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جو کسی بھارتی وزیرِ خارجہ کا ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ تاہم اس دورے میں امن مذاکرات کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہو سکی تھی۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے اتوار کو ایک نجی چینل سے گفتگو میں بھارتی وزیرِ خارجہ کی خطے میں امن قائم رکھنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا لیکن انہوں نے کہا کہ تمام معاملات صرف بھارت کی خواہشات کے مطابق طے نہیں کیے جا سکتے اور علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بھارت کشمیر اور سیاچن جیسے معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ’سٹریٹیجک معاملات کے حل کے لیے صرف مذاکرات ہی کافی نہیں بلکہ بھارت کو جانبدارانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کے خاتمے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی‘۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے اور جہاں پاکستان نے بھارت سے ممبئی حملوں کے حوالے سے مکمل تعاون کیا ہے وہیں سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کے سلسلے میں بھارت تعاون نہیں کر رہا ہے۔



















