بھارت میں خاندان محفوظ نہیں:ایلینا سین

بنائیک سین
،تصویر کا کیپشنبنائیک سین اس وقت جیل میں قید ہیں
وقت اشاعت

بھارت میں ملک سے غداری کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن بنائیک سین کی اہلیہ ایلینا سین کا کہنا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں سیاسی پناہ طلب کر سکتی ہیں۔

دلی میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں ایلینا سین نے کہا کہ ان کے شوہر کی قید کے بعد وہ اور ان کا خاندان ’بھارت میں محفوظ نہیں محسوس کرتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب میرے لیے یہی ایک راستہ بچتا ہے کہ میں کسی آزاد جمہوری ملک کے سفارت خانے کے پاس جا کر سیاسی پناہ حاصل کروں‘۔ ایلینا سین ایک غیر سرکاری تنظیم چلاتی ہیں اور وہ چھتیس گڑھ کے اسی علاقے میں قبائلیوں کے لیے کام کرتی ہیں جہاں ان کے شوہر کام کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ پولیس انہیں پریشان کر رہی ہے۔ ’پولیس مستقل ہمارے پیچھے لگی ہوئي ہے، انجانی میلز آتی ہیں، دھمکی آمیز فون آتے رہتے ہیں اور ہمارے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ اس دباؤ کے سبب ہی وہ حال ہی میں ریاست مہاراشٹر منتقل ہوگئی ہیں۔’یہاں تک کہ مہاراشٹر میں پولیس نے ہمارے مکان مالک کو بھی فون کر کے ہمارے بارے میں بتایا ہے‘۔

ایلینا سین نے کہا کہ ان کے شوہر کے خلاف مقدمے کی سماعت ’شرمناک‘ ہے۔ ان کے مطابق بنائیک پر لگائے گئے الزامات بڑے مبہم تھے اور ایک بچہ بھی پتہ کر سکتا ہے کہ ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت نہیں ہے۔

ادھر چھتیس گڑھ کی پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے اس کا کہنا ہے کہ ایلینا سین صرف شہرت کے لیے ایسا کر رہی ہیں۔

گزشتہ ماہ ریاست چھتیس گڑھ کی ایک عدالت نے ایلینا سین کے شوہر بنائیک سین کو ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ روابط رکھنے اور ان کی مدد کرنے کے الزام میں ملک سے بغاوت کا قصوروار ٹھہرایا تھا اور اس کے لیے انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

بھارت میں انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں، سرکردہ وکلاء اور کئی سرکردہ شخصیات کی طرف سے اس فیصلے پر سخت نکتہ چینی ہوتی رہی ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس فیصلے پر شدید الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقدمے کی سماعت میں عالمی معیار کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔