’ کواتروکی کے خلاف کیس نہ کھولیں‘

کواتروکی
،تصویر کا کیپشن2009 اپریل میں سی بی آئی نے کواترکی کے خلاف انٹرپول ریڈ کارنر نوٹس واپس لے لیا تھا۔
وقت اشاعت

بھارت کی مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے عدالت میں اطالوی تاجر اوتایو کواتراکی کے خلاف معاملہ دوبارہ نہ کھولنے کی عرضی دی ہے ۔

ہندوستان میں انکم ٹیکس کی ایک خصوصی عدالت کا کہنا ہے کہ بوفورس توپوں کے سودوں میں بھارتی تجارت کار ون چڈھا اور اوتایو کواتروکی کو اکتالیس کروڑ روپے رشوت دی گئی تھی اور اس آمدنی پر انہیں اب ٹیکس دینا چاہیے۔

اس پر سی بی آئی کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس عدالت کے حکم کے بعد سرکار کی جانب سے اسے معاملہ دوبارہ کھولنے اور تفتیش کرنے کے کوئی احکامات نہیں ملے ہیں اس لیے اس کیس کو واپس لیا جائے۔

سی بی آئی کی اس عرضی پر سنوائی بعد میں کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے وکیل اجے اگروال نے سی بی آئی کی عرضی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کو انکم ٹیکس عدالت کے حکم کے پیش نظر دیکھنا چاہیے۔ لیکن سی بی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کیس دوبارہ کھولنے کا کوئی حکم نہیں ہوا ہے اس لیے کیس کو بند کیا جانا چاہیے۔

انکم ٹیکس کی خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اس بارے میں کاروائی نہ کرنے سے ہندوستان کی شبیہ ایک سافٹ سٹیٹ( یعنی سزا دینے میں نرمی برتنے والے ملک) کے طور پر بن جائے گی‘۔

عدالت کے اس حکم کے بعد ہندوستان میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکمراں کانگریس پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئیر لیڈر ارون جیٹلی کا کہنا تھا ’یہ عجیب بات ہے۔ سرکاری تفتیشی ایجنسی اپنی طویل تفتیش کے بعد کہتی ہے کہ اس سودے میں کوئی دلالی نہیں ہوئی۔ لیکن دوسری جانب انکم ٹیکس محکمہ کہتا ہے کہ دلالی کاجو پیسہ دیا گیا اس پر ٹیکس دیا جانا چاہیے‘۔

وہیں کانگریس کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی کا کہنا تھا ’بھارتیہ جنتا پارٹی 1987 سے کیا کررہی تھی۔ ہماری حکومت نے کبھی بھی کواتروکی کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ جب ان کی پارٹی اقتدار میں تھی کو کواتروکی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی‘۔

واضح رہے کہ سی بی آئی کواتروکی کے خلاف مجرمانہ معاملہ بند کر چکا ہے اور اپریل سنہ 2009 میں اس نے اوتاویو کواتروکی کے خلاف انٹرپول ریڈ کارنر نوٹس واپس لے لیا تھا۔

ہندوستان نے اسّی کے عشرے میں سوئیڈن کی بوفورس کمپنی سے تقریباً ایک اعشاریہ چار ارب ڈالر کی توپیں خریدی تھیں جس کے بعد انیس سو ستاسی میں یہ الزامات سامنے آئے کہ اس سودے میں چونسٹھ کروڑ روپے کی رقم بطور کمیشن وصول کی گئی تھی۔ یہ رقم وصول کرنے کے سلسلے میں جن لوگوں پر الزامات عائد ہوئے ان میں کواتروکی کے علاوہ سابق وزیراعظم راجیوگاندھی اور دولت مند صنعت کار ہندوجہ برادران بھی شامل تھے۔

کواتروکی کو سن دو ہزار سات میں ارجنٹائن میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن وہاں کی مقامی عدالت کا خیال تھا کہ سی بی آئی نے جو ثبوت پیش کیے، وہ ناکافی تھے۔

کواتروکی ساٹھ کے عشرے میں ایک اطالوی گیس کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے پہلی مرتبہ ہندوستان آئے تھے۔ کانگریس کی موجودہ صدر سونیا گاندھی سے ان کی جان پہچان تھی اور کہا جاتا ہے کہ وہ گاندھی خاندان کے قریب ہوگئے تھے۔

بوفورس توپ گھپلے نے ہندوستان کی سیاست کو ہلا دیا تھا اور انیس سو نواسی کے انتخابات میں کانگریس کی شکست میں دلالی کے الزامات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ کواتروکی کو انیس سو ترانوے میں باقاعدہ طور پر ملزم بنایا گیا تھا۔