بھارت میں عام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ

بھارت میں اس ہفتے افراط زر کی شرح میں اضافہ اٹھارہ اعشاریہ بتیس فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ ایک برس میں اب تک کہ سب سے زیادہ ہے۔
دو ہزار دس میں مہنگائی بڑھی ہے لیکن یہ سب سے زیادہ ہے اور کہا جارہا ہے کہ افراط زر کی شرحوں میں اضافہ پیاز اور سبزیوں کی قیمتیں بڑھنے کے سبب ہوا ہے۔
لیکن ماہرین کے مطابق اس وقت عموما عام اشیاء کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور حکومت اس پر قبو پانے میں بے بس نظر آتی ہے۔
ایک ہفتے قبل افراط زر کی شرح چودہ اور پندرہ کے درمیان تھی اور اتنی تیزی سے انیس کے پاس پہنچ گئی ہے۔
نئے اعداد و شمار کے جاری ہوتے ہی وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا ’مہنگائی میں اور اضافہ ہورہا ہے جو افسوسناک ہے۔‘
کچھ دن پہلے جب پیاز کی قیمتیں بڑھی تھیں تو برآمدات پر پابندی اور در آمدات پر ٹیکسز میں رعایت دی گئی تھیں۔ پڑوسی ملک پاکستان سے سینکڑوں ٹن پیاز کی درآمدات شروع کی گئی جس سے کچھ قیمتیں کم ہوئی تھیں۔
لیکن اب پاکستان نے بھی پیاز کی برآمدات پر یہ کہہ کر پابندی لگادی ہے کہ اس کے ملک میں پیاز کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں نشر کی جا رہی ہیں کہ وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اس سلسلے میں پاکستانی حکام سے بات کی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے پابندی ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق پاکستان نے جزوی طور پر پابندی ہٹائی ہے اور اب ٹرک کے بجائے پانی کے جہاز اور ریل کے ذریعے پیاز بھارت آئے گی۔
پابندی کا اثر یہ ہوا ہے کہ مہنگائی پھر تیزی سے بڑھ گئی ہے اور خاص طور پر سبزیاں زیادہ مہنگی ہو گئی ہیں۔
لیکن سبزیاں ہی کیوں، بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پیٹرول، ڈیزل، کپڑے، دال چاول اور دیگر اشیاء کی بھی قیمتیں بڑھی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے حکومت پریشان ہے اور بہت ممکن ہے کہ اس ماہ کے اواخر میں جب ریزرو بینک آف انڈیا اپنی پالیسی کا اعلان کرے تو اس میں اس بات بھی خیال رکھا جائےگا۔



















