سبری مالا مندرمیں بھگدڑ سے درجنوں ہلاک

جمعہ کو تہوار کا آخری دن تھا اور ہزاروں کی تعداد میں یاتری مندر آئے تھے
،تصویر کا کیپشنجمعہ کو تہوار کا آخری دن تھا اور ہزاروں کی تعداد میں یاتری مندر آئے تھے
وقت اشاعت

بھارت کی ریاست کیرلا میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کی رات کو سبری مالا کے مندر میں بھگدڑ کے سبب اب تک ایک سو دو یاتری ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں بنگلور، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے شہری شامل ہیں لیکن بیشتر ہلاک شدگان کا تعلق تمل ناڈو سے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب تک تقریباً ساٹھ لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے مقامی پولیس افسر سنجے کمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اب تک ایک سو دو لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

بھارت کے وزیرِاعظم منموہن سنگھ، صدر پرتیبھا پاٹل اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سمیت کئی رہنماؤں نے اس واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔

ریاست تمل ناڈو کے وزیرِاعلیٰ کرونا ندھی نے ہلاک شدگان کے اہلِ خانہ کو ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ چودہ جنوری کو جنوبی ہندوستان میں پونم کا تہوار منایا جاتا ہے جو جنوبی ریاستوں میں روایتی نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس موقع پر مشہور سبری مالا مندر کی زیارت کے لیے دور دراز سے لوگ آتے ہیں۔

سبری مالا
،تصویر کا کیپشنکئی زخمیوں کی حالت نازک بیان کی جا رہی ہے

حکام کا کہنا ہے کہ مندر کی زیارت کے بعد جب یاتری اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے تو اس وقت بھگدڑ مچ گئی۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں اب تک ایک سو دو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

سبری مالا کا مندر کیرلا کے ضلع اڈکی کے پہاڑی علاقے میں واقع ہے جہاں گھنے جنگلات ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جمعہ کو تہوار کا آخری دن تھا اور ہزاروں کی تعداد میں یاتری مندر آئے تھے۔ یہ مذہبی تہوار دو ماہ چلتا ہے اور اس کو دیکھنے کے لیے لاکھوں افراد آتے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بھگدڑ اس وقت شروع ہوئی جب ایک جیپ بے قابو ہو کر یاتریوں میں آگھسی اور لوگ گھبرا کر بھاگنے لگے۔

اس جیپ کے نیچے چند افراد آگئے اور باقی لوگ بچنے کے لیے بھاگے تو بھگدڑ مچ گئی۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہندو تہواروں پر کوئی نئی بات نہیں ہے۔

سبری مالا کے تہوار ہی میں سنہ انیس سو ننانوے میں پہاڑی تودہ گرنے کے باعث بھگدڑ مچ گئی تھی جس میں پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔