کیرلا میں اسلامی بینکاری کی اجازت

بھارت کی جنوبی ریاست کیرلا کی ہائی کورٹ نے ریاست میں ملک کےسب سے پہلا اسلامی بینک کھولنے کی اجازت دیدی ہے۔
ریاست کےصنعتی ترقی کے کارپوریشن نے پہلا اسلامی بینک کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی بعض تنظیموں نے مخالفت کی تھی۔
بھارت میں اسلامک بینکنگ کے قیام کی باتیں ہوتی رہی ہیں لیکن ابھی تک ایسا ہو نہیں پایا ہے۔ کیرالا کی حکومت کے اس فیصلے پر عمل ہوا تو ملک کا یہ پہلا اسلامی بینک ہوگا۔
ہائي کورٹ میں کارپوریشن کے فیصلے کی مخالفت میں مفاد عامہ کی دو درخواستیں داخل کی گئی تھیں جس پر سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے اس کی اجازت دی ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گذار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ آخر ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے کس طرح ایک خاص مذہب کو بڑھاوا ملے گا۔
جنتا پارٹی کے ایک رہنماء سبرامنیم سوامی اور ایک ہندو تنظیم نے ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت کسی خاص مذہب کے معیار پر کام نہیں کر سکتی۔
اطلاعات کے مطابق یہ بینک عام بینکوں کی طرح کام کرنے کے بجائے ایک فنانشل انسٹی ٹیوٹ کی طرح کام کرے گا۔ حکومت کا کہنا یہ بینک ایک طرح کی تجارتی تنظیم ہوگی۔
’البراق فنانشل سروسز‘ نامی تنظیم اس بینک کا نظم و نسق چلائےگي۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بینک بھارت کے موجودہ معاشی قوانین کے مطابق ہوگا اور شرعی اصولوں کے مطابق کام کرے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہت سے مسلمان سود خوری سے بچنے کے لیے عام بینکوں کے ساتھ لین دین نہیں کرتے اس لیے اربوں روپے کی دولت حکومت کے کھاتوں سے الگ رہتی ہے۔
اسی سے بچنے کے لیے حکومت نے بھی اسلامک بینک کے قیام کے اشارے دیے تھے لیکن اس سلسلے میں ابھی تک ملک گیر سطح پر کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی ہے۔



















