دارجیلنگ میں عام ہڑتال سے زندگی متاثر

روشن گیری
،تصویر کا کیپشندارجیلنگ کے رہنما روشن گیری پولیس فائرنگ کے خلاف ہڑتال پر ہیں
وقت اشاعت

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے پہاڑی علاقے دارجیلنگ میں گزشتہ روز کے تشدد اور ہلاکتیوں کے خلاف ہڑتال سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔

مقامی جماعت گورکھا جنم مکتی مورچہ (جی جے ایم) نے بدھ کی صبح سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

حکام کے مطابق ہڑتال کے سبب دارجیلنگ کے بیشتر علاقوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے اور تمام طرح کی کارروائیاں بالکل ٹھپ پڑی ہیں۔

ریاست مغربی بنگال کے اس پہاڑی علاقے میں رہنے والے بیشتر افراد نیپالی زبان بولتے ہیں اور کئی برسوں سے وہ بنگال سے ایک علحیدہ ریاست کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

گزشتہ روز ایک احتجای مظاہرے کے دوران تشدد بھڑک اٹھا تھا جس پر قابو پانے کے لیے پولیس نے گولی چلائی تھی۔ اس واقعے میں گورکھا جنم مکتی مورچہ کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی کے خلاف پارٹی نے عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گورکھا کے حامیوں نے فورسز پر حملہ کیا تھا جس کے جواب میں پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی۔ اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنچائے اس علاقے کی اہم صنعت ہے

گورکھا تنظیم کے ایک رہنما روشن گیری کا کہنا ہے کہ ان کے حامی پر امن بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے اور ’ریلی بھی پر امن تھی لیکن پولیس نے لوگوں کو ہٹانے کی کوشش کی اور پھرگولیاں چلائیں۔‘

اس واقعے کی خبر جیسے ہی دارجیلنگ کے دوسرے علاقوں تک پہنچی جی جے ایم کے حامیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

دارجیلنگ سیاحت اور اپنی چائے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہڑتال سے جہاں ہزاروں لوگ وہاں پھنس جاتے ہیں وہیں چائے کی تجارت پر بھی فرق پڑتا ہے۔