دارجیلنگ میں عام ہڑتال سے زندگی متاثر

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے پہاڑی علاقے دارجیلنگ میں گزشتہ روز کے تشدد اور ہلاکتیوں کے خلاف ہڑتال سے عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔
مقامی جماعت گورکھا جنم مکتی مورچہ (جی جے ایم) نے بدھ کی صبح سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق ہڑتال کے سبب دارجیلنگ کے بیشتر علاقوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے اور تمام طرح کی کارروائیاں بالکل ٹھپ پڑی ہیں۔
ریاست مغربی بنگال کے اس پہاڑی علاقے میں رہنے والے بیشتر افراد نیپالی زبان بولتے ہیں اور کئی برسوں سے وہ بنگال سے ایک علحیدہ ریاست کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
گزشتہ روز ایک احتجای مظاہرے کے دوران تشدد بھڑک اٹھا تھا جس پر قابو پانے کے لیے پولیس نے گولی چلائی تھی۔ اس واقعے میں گورکھا جنم مکتی مورچہ کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
اسی کے خلاف پارٹی نے عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گورکھا کے حامیوں نے فورسز پر حملہ کیا تھا جس کے جواب میں پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی۔ اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

گورکھا تنظیم کے ایک رہنما روشن گیری کا کہنا ہے کہ ان کے حامی پر امن بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے اور ’ریلی بھی پر امن تھی لیکن پولیس نے لوگوں کو ہٹانے کی کوشش کی اور پھرگولیاں چلائیں۔‘
اس واقعے کی خبر جیسے ہی دارجیلنگ کے دوسرے علاقوں تک پہنچی جی جے ایم کے حامیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دارجیلنگ سیاحت اور اپنی چائے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہڑتال سے جہاں ہزاروں لوگ وہاں پھنس جاتے ہیں وہیں چائے کی تجارت پر بھی فرق پڑتا ہے۔



















