بھارت کا سالانہ بجٹ: سماجی سیکٹر کی رقم میں بھاری اضافہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے آئندہ مالی سال کے لیے اپنی حکومت کا بجٹ پیش کیا ہے جس میں سماجی سیکٹر کے لیے مختص شدہ رقم میں بھاری اضافہ کیا گیا ہے۔
نئے بجٹ کے حساب سے کیا سستا ہوگا اور کیا مہنگا اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
سستا: ائر کنڈشنر، سٹیل کا سامان، زرعی مشینری، خام ریشم، سلک، موبائل، سیمنٹ، کوئلہ، گاڑیوں کے پرزے، ہائبرڈ کاریں، ہومیوپیتھک دوائیں، ایل ای ڈی ٹی وی، لیزر پرنٹرز، اور بچوں کے ڈائپر۔
مہنگا: فضائی سفر، ڈزائنر جیولری اور ڈزائنر کپڑے ، خام لوہا ، بڑے ہسپتالوں میں علاج ، ائر کنڈیشنڈ شراب خانے اور ہوٹل
بجٹ کے اہم ترین نکات:
انکم ٹیکس سے استثنٰی کی حد ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے سے بڑھ کر اب ایک لاکھ اسی ہزار روپے ہو گئی ہے۔
بزرگوں کے زمرے میں شمولیت کی عمر پینسٹھ سے کم ہوکر ساٹھ ہوگی( بزرگ ڈھائی لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دیتے)
اسی سال سے زیادہ عمر والوں کے لیے انکم ٹیکس سے چھوٹ کی حد پانچ لاکھ روپے۔
کمپینوں پر سرچارج یا اضافی ٹیکس ساڑھے سات فیصد سے کم ہوکر پانچ فیصد
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے نیا اور آسان انکم ٹیکس ریٹرن فارم
سروس ٹیکس کی شرح میں کوئی اضافہ نہیں، ٹیکس کی شرح دس فیصد رہے گی لیکن ہوٹل اور ایئر کنڈیشن شراب خانوں سمیت کئی سروسز کو ٹیکس کی فہرست میں شامل کیا گیا
براہ راست ٹیکس کے زمرے میں نئی تجاویز سے سرکاری خزانے کو ساڑھے گیارہ ہزار کروڑ کا نقصان
ایکسائز اور کسٹم ڈیوٹی سے سات ہزار تین سو کروڑ کی آمدنی
ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں
عالمی اقتصادی صورتحال کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی دس فیصد ہی رہے گی
زراعت میں کام آنے والی مشینری پر ڈیوٹی پانچ فیصد سے کم ہوکر ساڑھے چار فیصد
زرعی قرضوں کے لیے پونے چار ارب کے بجائے اب پونے پانچ ارب روپے
معیشت نو فیصد کی سالانہ شرح سے ترقی کرے گی، آئندہ مالی سال میں افراط زر کم ہوگا
سرکاری زمرے کی بڑی کمپینوں کی نجکاری سے چالیس ہزار کروڑ روپے حاصل کیے جائیں گے
دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے فنڈ اٹھارہ ارب روپے
تعلیم کے شعبے کے لیے پچاس ہزار دو سو کروڑ روپے، مجموعی اضافہ چوبیس فیصد
حفظان صحت کے لیے چھبیس ہزار سات سو کروڑ، بیس فیصد اضافہ
خِط افلاس سے نیچے رہنے والوں کو مٹی کا تیل اور ایل پی جی کی سبسڈی براہ راست دینے کی تجویز
بجٹ خسارہ موجودہ مالی سال میں چار اعشاریہ چھ فیصد، آئندہ سال کے لیے ہدف پانچ اعشاریہ ایک فیصد



















