حسن علی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سپریم کورٹ کی سخت تنقید کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے الزامات کے سلسلے میں سٹڈ فارمز کے مالک حسن علی کو حراست میں لے لیا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے حال ہی میں انہیں چالیس ہزار کروڑ روپے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے نوٹس بھیجا تھا۔
حسن علی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی بینکوں میں ان کے اربوں ڈالر جمع ہیں جس پر انہوں نے انکم ٹیکس ادا نہیں کیا ہے اور یہ کہ وہ منی لانڈرنگ کے مرتکب ہیں۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے افسران نے پیر کے روز پونے میں حسن علی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا جہاں سے انہیں حراست میں لیا گیا۔
سپریم کورٹ نے بدعنوانی کے معاملات کی سماعت کے دوران حکومت سے معلوم کیا تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کے الزامات کے باوجود ابھی تک انہیں کیوں نہیں پکڑا گیا۔
یہ معاملہ پارلیمان میں بھی اٹھایا گیا تھا جہاں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ محکمہ انکم ٹیکس ان کے خلاف کارروائی کر رہا ہے لیکن کوئی بھی ایکشن قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد ہی لیا جائے گا۔
بہر حال، سپریم کورٹ نے بیرون ملک غیر قانونی طور پر رقم رکھنے والوں کے خلاف کارروائی میں پیش رفت پر آٹھ مارچ تک حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ اس ڈیڈ لائن سے صرف ایک روز پہلے حسن علی کو حراست میں لے لیا گیا۔
اس سے پہلے سن دو ہزار سات میں بھی حسن علی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے بیرون ملک بینکوں میں خفیہ طور پر آٹھ ارب ڈالر جمع کر رکھے ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے انہیں دس مارچ کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ابھی ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ان سے اٹھارہ فروری کو پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ ان پر سوئٹزر لینڈ کے یو بی ایس بینک میں آٹھ ارب ڈالر رکھنے کا الزام لگایا تھا لیکن بینک نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی اب یہ کوشش ہے کہ حسن علی خان کی بیرون ملک املاک کا پتہ لگایا جائے تاکہ اسے نیلام کرکے بقایہ جات وصول کیے جاسکیں۔ خود حسن علی تمام الزامات سے تردید کرتے رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں سپریم کورٹ نے پوچھا تھا کہ حسن علی اور دیگر افراد کو حراست میں لیکر کیوں پوچھ گچھ نہیں کی گئی ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی تھی کہ انہیں ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے۔
عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت نے کارروائی نہ کی تو اسے خود تفتیش کی نگرانی کرنا پڑے گی۔



















