گاندھی جی سے متعلق کتاب پر پابندی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت میں ریاست گجرات کی حکومت نے مہاتما گاندھی کی زندگي پر لکھی گئی ایک متنازعہ کتاب پر اپنی ریاست میں پابندی عائد کر دی ہے۔
’گریٹ سول:مہاتما گاندھی اینڈ ہز سٹرگل اِن انڈیا‘ نامی کتاب پولٹزر انعام یافتہ مصنف جوزیف لیلیویلڈ نے لکھی ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کتاب کے مواد میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گاندھی جی ہم جنس پرست تھے۔ لیکن مصنف نے اس کی تردید کی ہے۔
وزیراعلٰی نریندر مودی کا کہنا ہے اس کتاب میں ’عدم تشدد کی علامتی شخصیت کے متعلق نازیبا اور بدنام کرنے والی باتیں لکھی گئی ہیں‘۔
بدھ کے روز گجرات کی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھایا گیا اور سبھی نے کتاب پر پابندی کی وکالت کی اور اسی کے حق میں ووٹ دیا۔ اگرچہ یہ کتاب ابھی بھارت میں ریلیز نہیں کی گئی ہے اور شاید بہت کم ہی لوگوں نے پڑھی ہوگي۔
لیکن بھارت کے اخبارات میں اس کتاب کے اقتباسات شائع کیے گئے ہیں اور برطانیہ و امریکہ میں جو تجزیے شائع ہوئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہیرمین کالینبیخ نامی ایک جرمن شخص کے ساتھ ان کے جنسی رشتے تھے۔
اس کتاب کے مواد پر ہوئے تنازعے کے پیش نظر بعض دیگر ریاستی حکومتیں بھی اس پر پابندی عائد کرنےپر غور کر رہی ہیں۔
لیکن مصنف نے ایک بھارتی اخبار سے بات چیت میں اس بات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے کام کو بے موقع و محل پیش کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا ’میں نے ایسا کوئی الزام نہیں لگایا ہے کہ گاندھی جی نسل پرست یا بائی سیکشول تھے، بائی سیکوشل کا لفظ تو کتاب میں کہیں آیا ہی نہیں ہے‘۔
لیکن اخبارات میں کتاب پر جو تجزیے شائع ہوئے ہیں اس میں ان کے جرمن نژاد باڈی بلڈر شخص کے ساتھ جنسی تعلقات بتائے گئے ہیں۔
ایک اقتباس کے مطابق گاندھی جی نے انہیں خط ایک میں لکھا تھا ’ کیسے آپ نے میرے جسم پر مکمل کنٹرول پا لیا ہے، یہ تو جذبہ انتقام کے ساتھ ایک طرح کی غلامی ہے‘۔
گجرات کے وزیر اعلٰی نریندر مودی کا کہنا ہے کہ یہ کتاب گاندھی جی کو بدنام کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔’ کتاب میں جو نازیبا باتیں کہی گئی ہیں ان کی نہ صرف سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے بلکہ اسے برداشت نہیں کیا جانا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس کتاب پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔



















