کرکٹ کے عالمی چیمپئین کا فیصلہ آج

انڈیا کی فتح کا انحصار وریندر سہواگ اور سچن تندولکر کی اوپننگ جوڑی پر ہے
،تصویر کا کیپشنانڈیا کی فتح کا انحصار وریندر سہواگ اور سچن تندولکر کی اوپننگ جوڑی پر ہے
وقت اشاعت

دسویں کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں بھارت اور سری لنکا کی ٹیم آج سنیچر کو بھارتی شہر ممبئی کے وانکھیڈے سٹیڈیم میں آمنے سامنے ہوگی۔

سنیچر کو کھیلا جانے والا فائنل اس اعتبار سے بھی منفرد ہو گا کہ یہ پہلی بار دو ایشیائی ٹیموں کے مابین ہو گا۔

بھارت اور سری لنکا ایک ایک بار کرکٹ کے عالمی چیمپئین کا خطاب حاصل کر چکے ہیں۔

<link type="page"><caption> ورلڈ کپ فائنل: کانٹے دار میچ کا امکان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2011/04/110401_wc_review_haleem_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

اس سے پہلے ورلڈ کپ مقابلوں میں دونوں ٹیمیں سات میچ کھیل چکی ہیں جن میں چار بار جیت سری لنکا اور دو بار بھارت کی ہوئی جب کہ ایک میچ کا فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔

مرلی دھرن کو فٹنس کے مسائل کا سامنا ہے
،تصویر کا کیپشنمرلی دھرن کو فٹنس کے مسائل کا سامنا ہے

دونوں ٹیموں کے مابین مجموعی طور پر ایک سو اٹھائیس ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے گئے ہیں۔

ان میں 67 میچوں میں فتح کے ساتھ بھارت کا پلڑا بھاری ہے جب کہ سری لنکا نے پچاس میچ جیتے اور گیارہ کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔

سنیچر کو ورلڈ کپ کے فائنل سے قبل اٹھائیس اگست سال دو ہزار دس کو دونوں ٹیمیں آمنے سامنے تھیں۔ یہ میچ سری لنکا نے چوہتر رنز سے جیتا تھا۔

اس کے علاوہ عالمی کپ مقابلوں میں آخری بار دو ہزار سات میں سری لنکا نے بھارت کو 69 رنز سے شکست دی تھی۔

سچن تندولکر فائنل میں سینچریوں کی سنچری سکور کر کے ایک نیا سنگ میل عبور کر سکتے ہیں
،تصویر کا کیپشنسچن تندولکر فائنل میں سینچریوں کی سنچری سکور کر کے ایک نیا سنگ میل عبور کر سکتے ہیں

بھارت کی ٹیم میں سریش رائنا سیمی فائنل میں چھتیس رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کی فائنل میچ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر چکے ہیں جب کہ پاکستان کے خلاف سیمی فائنل کھیلنے والے اشیش نہرا انگلی ٹوٹ جانے کے سبب فائنل نہیں کھیل سکیں گے اور امید ہے کہ ان کی جگہ آل راؤنڈر یوسف پٹھان ٹیم کا حصہ بنیں گے۔

یوسف پٹھان اب تک موجود ورلڈ کپ میں کوئی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے ہیں۔ انھوں نے اب تک ایک وکٹ حاصل کر رکھی ہے جب کہ بیٹنگ میں ان کی اوسط چودہ اعشاریہ آٹھ ہے۔

اس کے علاوہ سچن تندولکر جن کے پاکستان کے خلاف سیمی فائنل میں چار کیچ ڈراپ ہوئے تھے کو امید ہو گی کہ فائنل میں وہ اپنے ایک روزہ اور ٹیسٹ میچوں میں سنچریوں کی سنچری مکمل کر کے ایک اور سنگ میل عبور کر لیں گے۔

دوسری جانب سری لنکا کے کپتان کمار سنگاکارا کو اپنی ٹیم کی جانب سے بڑے سکور کی امید ہو گی، انھوں نے خود سال دو ہزار سات کے عالمی کپ کے فائنل میں سات چوکوں کی مدد سے چوؤن رنز بنائے تھے لیکن اس فائنل میں سری لنکن ٹیم کو فتح نہیں دلا سکے تھے۔

سنگا کارا کی بھارت کی سرزمین پر بھارت کے خلاف بیٹنگ اوسط بیالیس رنز کی ہے۔

سری لنکا کے کوچ کے مطابق مایہ ناز سپنر مرلی دھرن فائنل میچ کھیلیں گے، لیکن مرلی کو انجری کا سامنا ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن کے سامنے ان کی کارکردگی متاثر ہو۔

اس کے علاوہ بھارتی سرزمین پر مرلی دھرن بھارت کے خلاف ایک روزہ میچوں میں چھ سال کے بعد بولنگ کروائیں گے۔ اس کے علاوہ ورلڈ کپ کا فائنل ان کا ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا آخری میچ ہو گا۔

یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ کوئی میزبان ٹیم عالمی چیمپئین کا خطاب حاصل کرے گی
،تصویر کا کیپشنیہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ کوئی میزبان ٹیم عالمی چیمپئین کا خطاب حاصل کرے گی

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سری لنکن ٹیم کے ذہن میں دو ہزار سات کے عالمی کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست بھی ہو گئی، سری لنکا کی موجودہ ٹیم میں سات کھلاڑی ایسے ہیں جنھوں نے دو ہزار سات کا فائنل میچ کھیلا تھا۔

ممبئی کے وانکھیڈے سٹیڈیم میں اس ورلڈ کے دو میچوں میں ایک ہزار ستینیس رنز بنے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک اننگ میں اوسطً دو سو انسٹھ اعشاریہ دو پانچ رنز بنے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت نے اپنی سرزمین پر سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے آخری سولہ ایک روزہ میچوں میں سے چودہ میں فتح حاصل کی ہے۔

اس وقت بھارت کی کرکٹ ٹیم میں ایسے متعدد سپرسٹار شامل ہیں جو اپنے علاقائی اور میزبان حریف کو شکست دینے کا سبب بن سکتے ہیں اور اپنے ملک کو تاریخ میں دوسری بار کرکٹ کا عالمی چپمپئین بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین اور عوام بھارت اور سری لنکا کے درمیان عالمی کپ کے فائنل میں کانٹے کے مقابلے کی توقع کر رہے ہیں لیکن آج ہونے والے فائنل میں فتح جس مرضی کی ٹیم کی ہو لیکن یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ کوئی میزبان ٹیم عالمی چیمپئین کا خطاب حاصل کرے گی۔