بھارت میں ٹی بی کے مرض میں اضافہ

عالمی تنظیم صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کے غلط اور حد سے زیادہ استعمال سے بھارت میں ہر برس ٹی بی کے ایک لاکھ سے زیادہ ایسے مریض بڑھ رہے ہیں جن کے اوپر کوئی دوا اثر نہیں کرتی۔
اینٹی بائیوٹکس کو جدید طب کی تاریخ میں سب سے اہم دریافتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ ڈاکٹر تنا مینابدے کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیو ٹکس کے غلط اور زیادہ استعمال سے بہت سی بنیادی دوائیں بے اثر ہو جاتی ہیں اور ایسی حالت میں جو دوسری دوائیں دستیاب ہیں وہ انتہائی مہنگی ہوتی ہیں اور اکثر ان کے اثرات بہت مضر ثابت ہوتے ہیں۔
دلی میں ایک کانفرنس میں ڈاکٹر مینابدے نے بتایا کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ٹی بی کی بیماریوں میں مبتلا لوگ جن پر بیشتر دوائیاں بے اثر ہو جاتی ہیں وہ دوسرے لوگوں تک اپنی بیماری پھیلاتے ہیں ۔
ڈاکٹر مینابدے نے ایک مطالعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ بھارت میں ہر برس ایک لاکھ ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی کے مریض بڑھ رہے ہیں۔ اس نوعیت کی ٹی بی سے نمٹنے کے لیے جو دوائیں چاہیں وہ عام دواؤں سے سو گنا زیادہ مہنگی ہیں اور پوری طرح موثر بھی نہیں ہیں ۔ اس لیے یہ لو گ نہ صرف خطرناک طریقے سے بیمار ہیں بلکہ وہ بیماری کو پھیلا بھی رہے ہیں‘۔
ڈاکٹر مینابدے کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے لیے عام لو گ اور ڈاکٹر دونوں ذمہ دار ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ’ کئی بار ضرورت نہ ہونے کے باوجود دواساز کمپنیوں کے دباؤ میں ڈاکٹر مریضوں کے لیے اینٹی بائیوٹکیس لکھ دیتے ہیں‘۔
ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو کسی بھی حالت میں ڈاکٹر کی صلاح کے بغیر اینٹی بائیو ٹیکس نہیں لینی چاہئیے ۔ ساتھ ہی دوا ساز کمپنیوں کو بھی صرف اپنی دوا فروخت کرنے کے لیے کسی مخصوص دوا کی ترغیب دینے سے گریز کرنا چاہیئے ۔
دلی میں ایک جائزے کے مطابق 47 فی صد لوگوں کا کہنا ہے کہ اگران کا ڈاکٹر عام زکام کے لیے اینٹی بائیو ٹیکس نہ لکھے تو وہ اپنا ڈاکٹر بدل دیں گے ۔
سروے کے مطابق ایسے لوگوں کی تعداد 53 فیصد ہے جو بیمار ہونے پر خود ہی اینٹی بائیو ٹیکس لے لیں گے ۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ لو گوں کا یہ رویہ ان کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















