مطالبات تسلیم، ہزارے کی ہڑتال ختم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کے بزرگ گاندھیائی رہنما انّا ہزارے نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک موثر قانون بنانے کے لیے جو مطالبات رکھے تھے انہیں حکومت نے تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس اعلان کے ساتھ ہی انّا ہزارے نے اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کو ختم کر دیا ہے۔
انہوں نے ملک کے سرکاری اداروں بالخصوص اعلیٰ حکومتی سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک موثر قانون وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پانچ اپریل سے دلی میں ’مرن برت‘ یعنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔
جنتر منتر پر سنیچر کی صبح ایک چھوٹی بچی کے ہاتھ سے پانی پی کر مسٹر ہزارے نے اپنا مرن برت توڑا۔ وہاں موجود ان کے بہت سے حامیوں نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور ماحول جشن میں بدل گيا۔
اس پر لوگوں سے اپنے خطاب میں انّا ہزارے نے کہا کہ ’یہ میری نہیں آپ سب کی جیت ہے۔ اس تحریک میں نوجوانوں کی شمولیت امید کی ایک نئی کرن ہے۔ اب ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ ہمیں لوک پال بل کا مسودہ تیار کرنا ہے جو پہلا چیلنج ہے۔ دوسرا مسئلہ اس مسودہ کو کابینہ سے منظور کروانا ہے اور سب سے اہم ہے پارلیمان سے اس بل کی منظوری۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھوک ہڑتال پر بیٹھنے سے قبل مسٹر ہزارے نے بد عنوانی کے خلاف اپنی مہم کو ’دوسری جنگ آزادی‘ سے تعبیر کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت جب تک ’ایک جن لوک پال بل نہیں پیش کرتی جس میں غیر سرکاری لوگ بھی شامل ہوں اور جس کے دائرے اختیار میں وزیر اعظم سمیت سبھی اعلیٰ سرکاری اہلکار آتے ہوں، تب تک وہ اپنی بھوک ہرتال ختم نہیں کریں گے۔‘
حکومت نے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے مجوزہ قانون وضع کرنے کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل کی ہے اور اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے کئی وزراء اور بڑے سیاسی رہنما انا ہزارے سے ملاقات کے لیے جنتر منترگئے تھے۔ اس سلسلے میں کئی دنوں سے بات چیت بھی جاری تھی اور بالآخر حکومت نے مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
بدعنوانی سے خاتمے کے لیے جو قانون وضع کیا جائیگا اس کا مسودہ یہی کمیٹی تیار کریگي۔ اس دس رکنی کمیٹی میں جہاں سینیئر وزیر شامل ہیں وہیں سماجی کار کن اور آزآد قانونی ماہرین بھی شامل ہوں گے۔
گزشتہ چند مہینوں میں سرکاری اداروں میں اربوں روپے کی بد عنوانی کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ مسٹر ہزارے نے اپنی بھوک ہڑتال ایک ایسے وقت شروع کی تھی جب پارلیمانی اکاؤنٹز کمیٹی ملک کے کئی اولین صنعت کاروں سے موبائل فون کے لائسنسوں کی خریداری میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے گھپلے میں پوچھ گچھ کر رہی تھی۔
حالیہ مہینوں میں پے درپے حکومتی بد عنوانی کے کئی معاملات سامنے آنے کے بعد حکومت زبردست دباؤ میں ہے اورایک ایماندار رہنما کے طور پر خود وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ذاتی شبیہہ بھی مجروح ہوئی ہے، اسی لیے کانگریس نے مطالبات تسلیم کیے ہیں۔



















