مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کے انتخاب

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی اسمبلی کے انتخاب کے دوسرے مرحلے میں سنیچر کو تین اضلاع کی پچاس سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
اس مرحلے میں تقریباً ایک کروڑ رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق صبح کے وقت لوگوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا گيا اور بڑی تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے نکلے لیکن جیسے جیسے سورج اوپر چڑھتا گيا گرمی کے سبب بھیڑ میں کچھ کمی آئی۔
ریاست مغربی بنگال میں گزشتہ تقریباً چونتیس برسوں سے بایاں محاذ اقتدار میں ہے اور ان انتخابات میں ان کا کانگریس اور ممتا بنرجی کے قیادت والے محاذ سے سخت مقابلہ ہے۔

سنیچر کو جن تین اضلاع میں انتخابات ہورہے ہیں اس میں مرشد آباد کی بائیس، بیربھوم کی گيارہ اور ندیا ضلع کی سترہ سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ سبھی پولنگ مراکز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ان پچاس سیٹوں کے لیے کل دو سو ترانوے امیدوار میدان میں ہیں اور اس کے لیے گیارہ ہزار پانچ سو اکتیس پولنگ مراکز تیار کیے گئے ہیں۔
مغربی بنگال کے بعض علاقے نکسلزم سے متاثر ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی علاقے سے ناخوشگوار واقع کی اطلاع نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات والے علاقوں میں تقریباً پانچ ہزار اضافی سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گيا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران بایاں محاذ اور ممتا بنرجی کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ بعض واقعات میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بار انتخابات میں ریاست کے سرکردہ سیاستدان اور ملک کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے بیٹے ابھیجیت مکھرجی کی بھی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ ریاستی وزیر پنچائیت انیس الرحمن بھی میدان میں ہیں۔



















