بینک میں رکھے لاکھوں نوٹ دیمک کھاگئی

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبینک ملازمین پر نوٹوں کے تئیں لاپرواہی برتنے کا الزام ہے
وقت اشاعت

بھارت کی ریاست اترپردیش کے ایک بینک میں رکھےتقریباً دس لاکھ روپے قیمت کے نوٹوں کو دیمک کھا گئی ہے جس کے لیے بینک ملازمین کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

یہ واقعہ ضلع بارہ بنکی کے قصبہ فتح پور میں سٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخ میں پیش آیا ہے۔

بینک کے ملازمین کو اس معاملے میں لاپرواہی برتنے کا قصوروار پایا گیا ہے اور سٹیٹ بینک آف انڈیا نے اس معاملے میں تحقیقات کے احکامات دیے ہیں۔

سٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیف جنرل منیجر ابھے سنگھ نے بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا ’برانچ منیجر لاپرواہی برتنے کے قصوروار پائے گئے ہیں جس کی وجہ سے بارہ بنکی ضلع کی فتح پور برانچ میں نوٹ خراب ہوگئے ہیں۔ اس معاملے میں جو بھی افراد ذمہ دار پائے جائیں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

ابھے سنگھ کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ’بینک کی غلطی ہے اس لیے بینک ہی اس نقصان کو برداشت کریگا۔ اس میں عوام کو کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نوٹ پر جو شناختی نمبر ہوتا ہے وہ بیشتر نوٹوں پر اب بھی برقرار ہے اس لیے انہیں دوبارہ چھاپہ جا سکتا ہے۔

یہ نوٹ بینک کے خصوصی سٹرانگ روم میں رکھے تھے اور اب بینک کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام شاخوں میں نوٹوں کے رکھنے کے نظام کو از سر نو چیک کیا جائے۔

ابھے سنگھ کا کہناتھا کہ سینیئر مینیجمنٹ کو اس سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا کہ سٹرانگ روم کی حالت خراب ہے اور دیمک کے سبب فرنیچر اور فائلیں خراب ہوتی جا رہی ہیں۔ ’اب کوشش یہ کی جارہی ہے کہ بینک کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کر دیا جائے۔‘

دو ہزار آٹھ میں ریاست بہار میں بھی اسی طرح کے ایک واقعے میں ایک تاجر دوارکا پرساد کی بینک کے لاکر میں جمع کی گئی ان کی زندگی بھر کی رقم دیمک نے کھالیا تھا اور انہیں نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

دوارکا پرساد نے بینک کے لاکر میں اپنی جائداد سے متعلق اہم کاغذات سمیت نوٹ بھی رکھے تھے جس میں سے ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔