گجرات: سنجیو بھٹ کی سکیورٹی ہٹا لی گئي

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
گجرات فسادات کے حوالے سے جس سینئر پولیس افسر نے وزیراعلی نریندر مودی کے خلاف سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا ان کی سکیورٹی ہٹا لی گئی ہے۔
گجرات کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے پولیس افسر سنجیو بھٹ کی حفاظت پر معمور پانچوں جوانوں کو اپنے پاس واپس بلا لیا ہے۔
گجرات پولیس کے ان احکامات کے بعد سنجیو بھٹ نے اپنی فیملی اور اپنے لیے حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب ان کی سکیورٹی ہٹائی گئی ہے جبکہ ریاست کی خفیہ ایجنسی نے انہیں وائي درجہ کی سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔
پولیس اور خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے باوجود مسٹر بھٹ کو سکیورٹی مہیا نہیں کی گئی ہے جبکہ وائی درجہ کی سکیورٹی کا مطلب گيارہ گارڈز کو تعینات کرنا ہوتا ہے۔
حال ہی میں سینیئر آئي پی ایس افسر سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے ایک حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ فسادات بھڑکتے ہی ستائیس فروری کو احمدآباد میں اعلیٰ پولیس اہلکاروں کی ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں انہوں نے بھی شرکت کی تھی۔
بقول مسٹر بھٹ اس میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے پولیس سے کہا تھا کہ ’فسادیوں کو نہ روکیں اور مسلمانوں کی طرف سے مدد کی التجاؤں پر دھیان نہ دیں۔‘
ان کے حلفیہ بیان کے مطابق کہ ’مسٹر مودی نے ان اہلکاروں سے کہا کہ ایک طویل عرصے سےگجرات پولیس مذہبی فسادات میں ہندؤوں اور مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنے میں توازن سے کام لیتی رہی ہے لیکن اس بار ایسی صورتحال ہے کہ مسلمانوں کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ کبھی ایسا واقعہ (گودھرا ٹرین) دوبارہ نہ ہونے پائے۔ ہندوؤں کے جذبات بہت زیادہ مشتعل ہیں اور یہ لازمی ہے کہ انہیں اپنا غصہ نکالنے دیا جائے۔‘
سنجیو بھٹ کا کہنا ہے کہ ان کا حلفیہ بیان میڈیا میں لیک ہوچکا ہے اس لیے انہیں اب اور زیادہ خطرہ ہے اس لیے مناسب سکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکیورٹی کے لیے انہوں نے داخلہ سیکریٹری کو بھی خط لکھا ہے لیکن اس سے پہلے کہ کوئی کارروائی ہوتی مودی کی حکومت نے ان کو دی گئی سکیورٹی ہٹا لی ہے۔



















