کیرالا: مندر سے قیمتی خزانہ دریافت

بھارت کی جنوبی ریاست کیرلا میں سولہویں صدی کے ایک مندر کے تہہ خانے سے اربوں روپے کی مالیت کے ہیرے اور جواہرات دریافت ہوئے ہیں۔
پدمنا بھاسوامی نامی یہ مندر ریاست کے دارالحکومت ترواننت پورم میں واقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق مندر کے چار تہہ خانوں میں سے دو گزشتہ تقریباً ایک سو تیس برس سے نہیں کھولے گئے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد سات افراد پر مشتل ایک کمیٹی نے اندر جا کر نوادرات کا جائزء لیا ہے۔
اس مندر کے تہہ خانے کھولنے کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی اور مقدمہ کی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے ان افراد کو مندر کے جائزے کے لیے خصوصی طور پر مقرر کیا تھا۔
حکام کی طرف سے مندر میں موجود نوادرات کی قیمت کے متعلق ابھی کچھ بھی نہیں کہا گيا ہے لیکن اطلاعات ہیں کہ مندر کے اندر تقربیاً پچيس ارب روپے کے قیمتی ہیرے جواہرات موجود ہیں۔
اس مندر کے آس پاس سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور حکام اشیاء کی ایک فہرست تیار کرنے میں لگے ہیں جس میں تقریباً ایک ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔
اس مندر کو ٹریوینکور کے راجاؤں نے سولہویں صدی میں تعمیر کروایا تھا اور مقامی کہانیوں میں اس طرح کی باتوں کا ذکر ہے کہ ان راجاؤں نے اپنی دولت مندر میں چھپانے کے لیے اس کی دیواروں میں قیمتی ہیرے جڑوائے تھے۔
راجاؤں نے بہت سی قیمتی اشیاء تہہ خانے میں رکھوائی تھیں اور شاید یہ نوادرات اس وقت سے وہاں موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی وکیل نے اس سلسلے میں جو درخواست دائر کی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ جن افراد کا مندر پر قبضہ ہے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ مندر کے اندر موجود نوادرات کی حفاظت کر سکیں اس لیے حکومت اس پر کنٹرول حاصل کر لے۔
ریاست کی ہائی کورٹ اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اس مندر پر حکومت کو اپنا کنٹرول حاصل کرنا چاہیے۔ لیکن ٹریونکور خاندان کے موجودہ راجا اترادھن تھرونال مرتھنڈا، جو اس مندر کے موجودہ متولی ہیں، نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے بھی حکومت سے مندر پر کنٹرول حاصل کرنے کو کہا تھا۔ ایک زمانے سے اس مندر پر ٹرنیکؤر کے خاندان کے لوگوں کا ہی قبضہ رہا ہے۔



















