میگھالے میں خواتین کا بول بالا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, ٹموتھی ایلن
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
ہندوستان کی ریاست میگھالےمیں روایتی طور پر خاندان کا محور خواتین ہوتی ہیں اور یہاں جہاں جائیداد کی منتقلی کا مادری نظام رائج ہے۔
اس نظام کے تحت جائیداد باپ سے بیٹے کے بجائے ماں سے بیٹی کو منقل ہوتی ہے اور اب ریاست کے بعض مرد اس نظام کو بدلنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ابتداء میں جب یورپی نو آبادکار یہاں آئے تھے تو یہاں کے پہاڑوں کو دیکھ کر انہوں نے اس جگہ کو ’مشرق کا سکاٹ لینڈ‘ قرار دیا تھا۔
اس ریاست میں خواتین خاندان کا محور ہوتی ہیں اور گھر کا نظام مردوں کے بجائے خواتین چلاتی ہیں اور شاید یہ بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں لڑکی کے جنم پر جشن منایا جاتا ہے۔
ریاست میگھالے کا سماج ایک روایتی سماج ہے اور یہاں کی خواتین کو بےحد مضبوط ارادے والی خواتین کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ریاست میں مردوں کے حقوق کے لیے تحریک جاری ہیں۔ ایسی ہی ایک تنظیم ’سنگھکونگ رمپی تھمائی‘ کے صدر کیتھ پاریات کا کہنا ہے کہ ’ہم اور ہمارے ساتھی معاشرے میں خواتین کے درجے کو کم نہیں کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم مردوں کو خواتین کے برابر لانا چاہتے ہیں‘۔
کیتھ پاریات نے اپنے معاشرے کی روایت کے برعکس اپنے والد کا نام اپنے نام کے ساتھ لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے سماج میں خواتین کے غلبے کا یہ منفی اثر ہوا ہے کہ مرد نشے اور منشیات اور اعتماد کی کمی کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کھاسی سماج خواتین کی کتنی طرف داری اور عزت کرتا ہے تو آپ یہاں کے ہسپتالوں کے زچگی وارڈ میں جاکر دیکھیں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاریات اس طرح کی کئی مثالیں دیتے ہیں کہ اس نظام کی وجہ سے کس طرح ان کے ساتھی احساس کمتری کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ اپنی مادری زبان سے کئی مثالیں دیتے ہیں اور بتاتے ہیں ان کی زبان میں بھی بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو جب کارآمد ہوجاتے ہیں تو ان کی صنف بدل کر موئنث ہو جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کا غلبہ ایک ایسے معاشرے کو جنم دیتا ہے جہاں مرد اپنے آپ کو بیکار سمجھتے ہیں۔
شلونگ کے ایک روزنامے کی مدیر پیٹریشیا مکم کا کہنا تھا کہ وہ اپنے معاشرے کی روایت کی وجہ سے ہی اس مقام پر پہنچی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیاسی فیصلوں سے خواتین کو باہر رکھنا آج بھی ان کے سماج میں عام بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی تہذیب اور سماج خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔
میگھالے کے مشرق میں واقع کھاسی گاؤں کی رہائشی بیالیس سالہ میری اپنے والدین کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔ ان کے معاشرے میں سب سے چھوٹی بیٹی کو ’ کا کھدو‘ کہا جاتا ہے اور روایت کے مطابق وہ اپنے والدین کے ساتھ تب تک رہیں گی جب تک وہ اپنا خاندانی گھر کی مالکن نہیں بن جاتی۔
ان کے چھتیس سالہ خاوند الفرڈ ان کے ساتھ ان کے ہی والدین کے گھر میں رہتے ہیں۔ میری کا کہنا ہے ’ہمارے گاؤں میں زیادہ تر لڑکے اپنے والد کی کھیتوں میں مدد کرنے کے لیے جلد ہی سکول کی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں جو انکی تعلیم میں رکاوٹ کی بڑی وجہ ہے‘۔
وہ اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ انہوں نے مردوں کے حقوق سے متعلق کسی مہم کے بارے میں نہیں سنا ہے۔ حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کا سماج کبھی نہیں بدلے گا۔
اس بات چیت کے درمیان میری کے خاوند الفرڈ صرف مسکراتے رہے۔ مترجم کے ذریعے الفرڈ سے پوچھا گیا کہ وہ کھاسی سماج میں خواتین کے غلبے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں تو میری نے کہا ’انہیں یہ نظام پسند ہے‘۔



















