فحش ویڈیو معاملہ، تین وزراء مستعفی

،تصویر کا ذریعہTV9
بھارتی ریاست کرناٹک میں اسمبلی کی کارروائی کے دوران موبائل فون پر مبینہ طور پر فحش ویڈیو دیکھنے والے دو وزراء نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان دونوں کے علاوہ یہ فحش ویڈیو ان وزراء کو بھیجنے والے وزیر بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔
شمالی کرناٹک سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کی حکومت کے وزراء لکشمن سوادی اور وزیر سی سی پاٹل منگل کو اسمبلی اجلاس کے دوران موبائل فون پر فحش ویڈیو دیکھتے پائے گئے تھے۔
ایک مقامی ٹی وی چینل نے انہیں یہ ویڈیو دیکھتے ہوئے دکھایا تھا۔ ٹی وی فوٹیج میں سوادي اپنے فون پر ایک ویڈیو دیکھ رہے ہیں اور اس کے بعد تھوڑی دیر کے لیے پاٹل بھی ان کے پاس آتے ہیں۔
لکشمن سوادي اور سی سی پاٹل کے علاوہ معلومات اور ٹیکنالوجی امور کے وزیر کرشنا پالیمر نے بھی استعفی دیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر یہ مواد لکشمن سوادی کو دیا تھا۔
بدھ کو تینوں وزراء کو بی جے پی کے دفتر بلایا گیا اور انہیں استعفیٰ دینے کے لیے کہا گیا۔
بعدازاں بی جے پی کے دفتر کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لکشمن سوادی نے کہا،’ہم نہیں چاہتے کہ پارٹی اور حکومت کو ہماری وجہ سے شرمندہ ہونا پڑے اس لیے ہم سب نے وزارتوں سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے‘۔
اس سے قبل منگل کو سوادی نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ ویڈیو دیکھی ہے لیکن وہ اسے جرم نہیں سمجھتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق لکشمن سوادی نے کہا تھا، ’یہ فلم ایک دوسرے وزیر کرشنا پالیمر کے موبائل فون پر تھی۔ ویڈیو کلپ میں عورتیں ناچ رہی تھیں اور بعد میں چار آدمیوں نے ان کا ریپ کیا۔ پالیمر نے مجھے بتایا کہ بیرون ملک میں ایسی ریو پارٹیاں ہوتی ہیں۔ چونکہ ایوان میں مالپے میں ہوئی ریو پارٹی پر بحث چل رہی تھی لہٰذا میں نے یہ فلم دیکھی‘۔
کرشنا پالیمر کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ اس طرح کے کلپ کس طرح بھیجے جاتے ہیں اور ان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔
لکشمن سوادي اور سی سی پاٹل نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسمبلی کے سپیکر اس معاملے کی تفتیش کا حکم دیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ بے قصور ثابت ہوں گے۔
کرناٹک میں اسمبلی سیکریٹریٹ دُوردرشن کے علاوہ مقامی نجی ٹی وی چینلوں کو بھی ایوان کی کارروائی کا نشریات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔



















