’سمجھدار لوگ ہوا کا رخ پہچانتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
- وقت اشاعت
جب سے بھارتی فوج کے سربراہ نے اپنی تاریخ پیدائش بدلوانے کے لیے وفاقی حکومت سے درخواست کی تھی، مذاق میں کہا جارہا تھا کہ بھارت میں حکومت فوج کے سربراہ کی عمر طے کرتی ہے اور پاکستان میں فوج کے سربراہ حکومت کی عمر طے کرتے ہیں!
اور جمعہ کو جب جنرل وی کے سنگھ کی پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر غور آئی تو تقریباً اسی وقت پاکستان کی سپریم کورٹ بھی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں سخت احکامات جاری کر رہی تھی۔
اب ایک طرف وزیر اعظم گیلانی کا سیاسی مستقبل داؤ پر ہے اور دوسری طرف جنرل سنگھ کا جن کے بارے میں اب یہ قیاس آرائی شروع ہوگئی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوسکتے ہیں۔
بھارت کی سپریم کورٹ نے جنرل سنگھ کی پٹیشن پر کچھ ایسے ریمارکس پاس کیے جن کی شاید انہوں نے توقع نہیں کی ہوگی اور اگرچہ ان کے وکیل یہ دعوی کررہے ہیں کہ دونوں فریقوں کی جیت ہوئی ہے، سنیچر کے اخبارات کی سرخیوں اور سماعت کے دوران عدالت میں اٹارنی جنرل کے موقف سے یہ تاثر نہیں ملتا۔
ہندوستان ٹائمز کی سرخی ہے کہ ’فوج کے سربراہ سپریم کورٹ میں عمر کی جنگ ہار گئے‘ جبکہ ٹائمز آف انڈیا کا کہنا ہے کہ ’جنرل عمر کی لڑائی ہار گئے، کچھ عزت (آنر) بچانے کی کوشش‘۔
عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ جنرل سنگھ نے جو موقف اختیار کیا وہ ان کے شایان شان نہیں ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ سپریم کورٹ میں جنرل سنگھ کو نہ عزت( کی بحالی) ملی اور نہ عہدے کی مدت میں توسیع، سپریم کورٹ نے ان کے پٹیشن کے حق میں فیصلہ سنانے سے انکار کر دیا جس کے بعد انہیں مجبوراً اپنی درخواست واپس لینی پڑی۔۔۔
عدالت نے کہا کہ’ آپ نے وہ اعلیٰ ترین عہدہ حاصل کر لیا ہے جس کی آپ کو خواہش تھی، آپ کی حیثیت کا شخص عدالت میں کیوں آیا ہے۔۔۔آپ یہ مسئلہ اب کیوں اٹھا رہے ہیں؟‘
عدالت نے کئی مرتبہ یہ بات دہرائی کہ جنرل سنگھ کی ایماندری پر کوئی شبہ نہیں کر سکتا اور وہ چاہتی ہے کہ وہ فوج کے سربراہ کےعہدے پر قائم رہیں لیکن ساتھ ہی ججوں کے ریمارکس سے یہ بات بالکل واضح تھی کہ وہ حکومت کے موقف کو درست مانتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنرل سنگھ کے وکیل نے یہ تجویز بھی رکھی کہ اگر حکومت جنرل کی تاریخ پیدائش دس مئی انیس سو پچاس کے بجائے انیس سو اکیاون مان تسلیم کرلیتی ہے تو وہ (جنرل سنگھ) اڑتالیس گھنٹوں کے اندر مستعفی ہو جائیں گے، لیکن عدالت نے کہا کہ ’ہم ان کی حقیقی عمر کا تعین نہیں کریں گے۔۔۔ہمیں یہ یکھنا ہے کہ ریکارڈ کی بنیاد پر کون سی تاریخ پیدائش تسلیم کی جانی چاہیے‘۔
عدالت نے کہا کہ اسے اس بات میں شبہ نہیں ہے کہ جنرل سنگھ نے تاریخ پیدائش درست کرانے کی سنجیدہ کوششیں کی تھیں لیکن جب انہوں نے تحریری طور پر حکومت کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سن پچاس کی تاریخ پیدائش مانیں گے تو پھر اس مسئلہ کو دوبارہ اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ’ہم آپ کی تکلیف سمجھتے ہیں لیکن خود آپ نے فیصلہ حکومت پر چھوڑا تھا‘۔
سماعت کے دوران اگرچہ حکومت کو عدالت کے سامنے جھکتے ہوئے اپنا تیس دسمبر کو وہ فیصلہ واپس لینا پڑا جس میں(حکومت کے ابتدائی فیصلوں کے خلاف) جنرل سنگھ کی اپیل کو مسترد کیا گیا تھا لیکن وہ فوج کے سربراہ کی عمر کے بارے میں اس سے پہلے کیے جانے والے فیصلوں پر قائم رہی کیونکہ ان کی قانونی صحت پر عدالت نے کوئی سوال نہیں اٹھایا تھا۔
لیکن حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات اتنے بڑھ گئے تھے کہ جب جنرل سنگھ کے وکیل کو یہ احساس ہوا کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ نہیں سنائے گی تو انہوں نے یہ تجویز رکھی کہ ریکارڈ میں بات شامل کردی جائے کہ معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوگیا ہے لیکن اٹارنی جنرل اس کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
تقریباً چار گھنٹے کی بحث کے بعد عدالت نے کہا کہ ’سمجھدار لوگ ہوا کا رخ پہچانتے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم اپنا فیصلہ سنا سکتے ہیں‘۔ اس کے بعد جنرل سنگھ کے وکیل نے پٹیشن واپس لے لی۔



















