بھارت میں صدارتی انتخاب جمعرات کو

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت میں جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخاب کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس صدارتی انتخاب میں حکمراں اتحاد کی طرف سے پرنب مکھر جی اور حزب اختلاف کی جانب سے پی کے سنگما صدارتی امیدوار ہیں۔
صدارتی انتخاب میں سات سو چھہتر ارکان پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے چار ہزار ایک سو بیس ارکان نئے صدر کا انتخاب کریں گے۔
ان ارکان کے ووٹوں کی تعداد کا تعین ان کے حلقے کی آبادی کے تناسب سے ہوتا ہے۔ مجموعی طورپر ووٹوں کی تعداد دس لاکھ اٹھانوے ہزار ہے اور جیتنے والے امیدوار کو پانچ لاکھ انچاس ہزار چار سو بیالیس ووٹ درکار ہوں گے۔
ووٹوں کی گنتی اتوار کو ہوگی اور نتائج اتوار کی شام تک آنے کی توقع ہے ۔
حکمراں اتحاد کے امیدوار پرنب مکھرجی کو حزب اختلاف کے اتحاد کی بعص جماعتون کی بھی حمایت حاصل ہے اور عام طور پر یہی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ یہ انتخاب جیت جائیں گے ۔
پرنب مکھرجی کو حکمراں اتحاد کے علاوہ ، ملائم سنگھ یادو کی سماواجدی پارٹی ، مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی ، لالو یادو کے راشٹریہ جنتا دل ، جندا دل سیکیولر ، مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور شیو سینا کی بھی حمایت حاصل ہے ۔
دوسری جانب سابق اسپیکر پی کے سنگما بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتون کی حمایت پرانحصار کریں گے ۔
پی کے سنگما نے ارکان پارلیمان اور اسمبلی سے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اس انتخاب میں کامیاب ہونگے ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوران نائب صرر محمد حامد انصاری نے دوبارہ نائب صدر کے عہرے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر دیے ہیں۔ ان کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئررہنما جسونت سنگھ سے ہے ۔



















