بھارت میں صدارتی انتخاب جمعرات کو

حکمراں اتحاد کے امیدوار پرنب مکھرجی کو حزب اختلاف کے اتحاد کی بعض جماعتون کی حمایت بھی حاصل ہے
،تصویر کا کیپشنحکمراں اتحاد کے امیدوار پرنب مکھرجی کو حزب اختلاف کے اتحاد کی بعض جماعتون کی حمایت بھی حاصل ہے
وقت اشاعت

بھارت میں جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخاب کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ اس صدارتی انتخاب میں حکمراں اتحاد کی طرف سے پرنب مکھر جی اور حزب اختلاف کی جانب سے پی کے سنگما صدارتی امیدوار ہیں۔

صدارتی انتخاب میں سات سو چھہتر ارکان پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے چار ہزار ایک سو بیس ارکان نئے صدر کا انتخاب کریں گے۔

ان ارکان کے ووٹوں کی تعداد کا تعین ان کے حلقے کی آبادی کے تناسب سے ہوتا ہے۔ مجموعی طورپر ووٹوں کی تعداد دس لاکھ اٹھانوے ہزار ہے اور جیتنے والے امیدوار کو پانچ لاکھ انچاس ہزار چار سو بیالیس ووٹ درکار ہوں گے۔

ووٹوں کی گنتی اتوار کو ہوگی اور نتائج اتوار کی شام تک آنے کی توقع ہے ۔

حکمراں اتحاد کے امیدوار پرنب مکھرجی کو حزب اختلاف کے اتحاد کی بعص جماعتون کی بھی حمایت حاصل ہے اور عام طور پر یہی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ یہ انتخاب جیت جائیں گے ۔

پرنب مکھرجی کو حکمراں اتحاد کے علاوہ ، ملائم سنگھ یادو کی سماواجدی پارٹی ، مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی ، لالو یادو کے راشٹریہ جنتا دل ، جندا دل سیکیولر ، مارکسی کمیونسٹ پارٹی اور شیو سینا کی بھی حمایت حاصل ہے ۔

دوسری جانب سابق اسپیکر پی کے سنگما بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتون کی حمایت پرانحصار کریں گے ۔

پی کے سنگما نے ارکان پارلیمان اور اسمبلی سے اپنے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اس انتخاب میں کامیاب ہونگے ۔

اس دوران نائب صرر محمد حامد انصاری نے دوبارہ نائب صدر کے عہرے کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر دیے ہیں۔ ان کا مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئررہنما جسونت سنگھ سے ہے ۔