صدارتی انتخاب میں پرنب کی کامیابی ’یقینی‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت میں جمعرات کو صدرِ جمہوریہ کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور سیاسی مبصرین کے مطابق حکمراں یو پی اے کے امیدوار پرنب مکھرجی کی کامیابی میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
پرنب مکھرجی سابق وزیر خزانہ ہیں اور ان کا مقابلہ لوک سبھا کے سابق سپیکر اور قبائلی رہنما پورنو سنگما سے ہے جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرِ قیادت اتحاد این ڈی اے کی حمایت حاصل ہے۔
صدر کے انتخاب میں پارلیمان اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتا ہے اور موجودہ سیاسی منظرنامے میں کانگریس اوراس کی اتحادی جماعتوں کو واضح اکثریت حاصل ہے۔
اس انتخاب میں سات سو چھہتر ارکان پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے چار ہزار ایک سو بیس ارکان نئے صدر کا انتخاب کر رہے ہیں۔
ان ارکان کے ووٹوں کی تعداد کا تعین ان کے حلقے کی آبادی کے تناسب سے ہوتا ہے۔ مجموعی طورپر ووٹوں کی تعداد دس لاکھ اٹھانوے ہزار ہے اور جیتنے والے امیدوار کو پانچ لاکھ انچاس ہزار چار سو بیالیس ووٹ درکار ہوں گے۔
پرنب مکھرجی کو این ڈی اے کی دو اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے جن میں مہارشٹر کی شیوسینا اور بہار کی جنتا دل یونائیٹڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بائیں بازو کی جماعت سی پی ایم بھی ان کی حمایت کررہی ہے۔
نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق پرنب مکھرجی کو صدارتی امیدوار بنانے کے سوال پر وفاقی حکومت میں کانگریس کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس ناراض ہوگئی تھی اور کہا جارہا تھا کہ وہ حکمراں اتحاد سے الگ ہوسکتی ہے لیکن پارٹی کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے’ نہ چاہتے ہوئے بھی‘ پرنب مکھرجی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
نائب صدر کا انتخاب اگست میں ہوگا جس کے لیے یو پی اے نے نائب صدر حامد انصاری کا نام پیش کیا ہے جبکہ این ڈی اے نے بی جے پی کے سینئر لیڈر جسونت سنگھ کو انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پارلیمانی امور کے وزیر پون کمار بنسل کے مطابق پی اے سنگما کی آبائی ریاست میگھالیہ میں کچھ کراس ووٹنگ ہوسکتی ہے لیکن مجموعی طور پر پرنب مکھرجی کو تقریباً ساڑھے سات لاکھ ووٹ ملنے کی امید ہے۔ الیکٹورل کالج میں ووٹوں کی مجموعی قدر تقریباً گیارہ لاکھ ہے۔
دو ہزار سات کے انتخاب میں پرتبھا پاٹل سنگھ نے تین لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پرنب مکھرجی کی کامیابی کا فرق اس سے زیادہ رہے گا۔
پرنب مکھرجی کا شمار ملک کے سب سے تجربہ کار سیاست دانوں میں کیا جاتا ہے اور وہ تقریباً چالیس برس سے پارلیمان کے رکن ہیں اور وزارت خزانہ سے قبل وہ دفاع، خارجہ، اور تجارت کی وزارتوں کی ذمہ داری بھی سمبھال چکے ہیں۔



















