بھارتی فوج کے سابق سربراہ کی ضمانت منظور

جنرل وی کے سنگھ
،تصویر کا کیپشنجنرل وی کے سنگھ گزشتہ اکتیس مئی کو ریٹائر ہوئے ہیں
وقت اشاعت

بھارت کی ایک ذیلی عدالت نے ملٹری انٹیلیجنس کے ایک سابق سربراہ کی طرف سے دائر کیے گئے ہتک عزت کے ایک مقدمے میں بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ اور چار حاضر سروس اعلیٰ فوجی افسران کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ، فوج کے وائس چیف آف اسٹاف ایس کے سنگھ ، ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل بی ایس ٹھاکر، میجر جنرل ایس ایل نرسمہن اور لفٹیننٹ کرنل ہیتین ساہنی ایک سبکدوش لیفٹیننٹ جنرل تیجندر سنگھ کی شکایت پر دلی کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوئے۔

لیفٹیننٹ تیجندر سنگھ نے ان پانچوں اہلکاروں پر ان کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرنے کے لیے اپنے سرکاری عہدے اور اختیارات کا بےجا استعمال کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے ان پانچوں کی ضمانت بیس بیس ہزار روپے کے ذاتی مچلکے پر منظور کر لی۔

دلی سے ہمارے نامہ نگار شکیل اختر نے بتایا ہے کہ تیجندر سنگھ نے ہتک عزت کے اس مقدمے میں یہ الزام لگایاہے کہ پانچ مارچ کو فوج کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی تھی جس میں ان پر یہ الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک مخصوص ساخت کے چھ سو ٹرکوں کی خریداری کی منظوری دینے کے عوض بری فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو چودہ کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی تھی۔

تیجندر سنگھ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہےکہ اس پریس ریلیز کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ملٹری انٹیلیجنس کے سابق سربراہ تیجندر سنگھ اور جنرل سنگھ کے بعض مخالف افسران میڈیا میں یہ جھوٹی خبریں شائع کروا رہے تھے کہ فوج دلی میں بعض اہم رہنماؤں کے فون ٹیپ کر رہی ہے ۔

میٹرو پولیٹین مجسٹریٹ نے فوج کے سابق سربراہ اور چاروں اعلیٰ اہلکاروں کو حاضر ہونے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس مقدمے میں ایک ملزم کے طور پر طلب کیے گئے ہیں۔

جنرل وی کے سنگھ اکتیس مئی کو فوج کے سربراہ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں۔

عدالت نے پانچوں اہلکاروں کے کردار کے تعین کے لیے اس سے قبل وزارت دفاع سے وہ فائل طلب کی ہے جس میں پانچ مارچ کی پریس ریلیز کی تفصیلات درج ہیں۔

میٹروپولیٹن میجسٹریٹ نے اس معاملے کی سماعت کے دوران کہا کہ یہ پریس ریلیز ’بادی النظر‘ میں ہتک آمیز لگتی ہے کیونکہ اس میں تیجندر سنگھ کے خلاف رشوت دہی کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں جنہوں نے فوج میں ایک طویل عرصے تک امتیازی خدمات انجام دی ہیں ۔

یہ معاملہ جنرل وی کے سنگھ کی سربراہی کے آخری ایام کا ہے۔ جنرل سنگھ کو ایک انتہائی لائق اور ایماندار جنرل تصور کیا جاتا ہے۔ اپنے عہدے کی مدت کے آخری دنوں میں انہوں نے کہا تھا کہ فوج میں بڑے پیمانے بدعنوانی پھیلی ہو ئی ہے اور یہ کہ انہیں بعض سودوں کی منظوری کے لیے رشوت دینے کی کوشش کی گئی تھی ۔