ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے قطر پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ثالثی کی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کرے اور عوامی بیانات دیتے وقت زیادہ احتیاط سے کام لے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ محمود مالکی کا یہ ردِعمل قطری وزارتِ خارجہ کے شعبۂ مواصلات کے ڈائریکٹر ابراہیم الہاشمی کے حالیہ بیان کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
قطری عہدیدار نے کہا تھا کہ قطر اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک متعدد بار علاقائی سلامتی کے فریم ورک کے قیام کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، اور اب تہران پر لازم ہے کہ وہ مجوزہ اصولوں پر عمل کرتے ہوئے عملی طور پر اپنی نیک نیتی کا مظاہرہ کرے۔
انھوں نے مزید کہا تھا کہ مثبت بیانات کے باوجود ایران کو اپنے مؤقف کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا چاہیے، ہمسایہ ممالک کو دھمکیاں دینے سے گریز کرنا چاہیے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا چاہیے۔
اس پر ردِعمل دیتے ہوئے ایرانی اہلکار نے کہا کہ تہران قطر سمیت تمام ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل میں باہمی خیرسگالی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اقدامات، خصوصاً ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے غیر ملکی قوتوں کو اپنی سرزمین یا تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دینا، علاقائی اعتماد کے منافی ہے اور اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔
ایران اور قطر کے تعلقات حالیہ مہینوں میں اس وقت کشیدہ ہوئے جب ایران نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں قطر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تہران کا مؤقف تھا کہ اس کے حملوں کا ہدف قطر نہیں بلکہ امریکی فوجی تنصیبات تھیں، تاہم دوحہ نے ایسے اقدامات کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔
قطر، پاکستان کے ساتھ، ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں اور سفارتی ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔