ستر سال کی کہانی

وقت اشاعت

لندن میں بی بی سی کی ہندوستانی سروس کا آغاز انیس سو چالیس میں ہوا جسے بعد میں اردو اور ہندی سروسز میں منقسم کیا گیا۔ اس سروس کے ستر سال پورے ہونے پر بی بی سی اردو سے چند منتخب یادیں۔

ذوالفقار علی بخاری
،تصویر کا کیپشنمئی 1940 میں لندن سے اس وقت کے ہندوستان والوں کے لیے ان کی زبان میں نشریات شروع کروانے کا انتظام ذوالفقار علی بخاری اور فیلڈن نے کیا تھا۔ فیلڈن آل انڈیا ریڈیو کے کنٹرولر تھے اور بخاری ممبئی سٹیشن کے ڈائریکٹر۔ یہ تصویر 1970 کے زمانے کی ہے۔
پاکستان سیکشن
،تصویر کا کیپشنتین اپریل 1949 کو ہندوستانی سروس کی تقسیم عمل میں آئی۔ ایک پاکستان سیکشن بنا اور دوسرا انڈین سیکشن۔ پاکستان سیکشن کی خوش قسمتی تھی کہ اسے ایل وی ڈین جیسے سربراہ مل گئے۔ وہ بے حد شریف انسان تھے اور پروگراموں کی ترتیب میں بے جا دخل اندازی نہیں کرتے تھے۔ 1950 کی اس تصویر میں وہ درمیان میں بیٹھے ہیں۔
بی بی سی انڈین سیکشن
،تصویر کا کیپشنبی بی سی انڈین سیکشن
 پروڈیوسر یاور عباس، ذوالفقار علی بخاری کے پیچھے کھڑے ہیں اور بخاری کے دائیں ہاتھ پر اعجاز بٹالوی بیٹھے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشیکسپیئر کے ڈرامے ’مرچنٹ آف وینس‘ کو ریڈیو پر نشر کرنے کے لیےتیاری ہو رہی ہے۔ انیس سو چوّن میں کیے جانے والے اس ڈرامے کے پروڈیوسر یاور عباس، ذوالفقار علی بخاری کے پیچھے کھڑے ہیں اور بخاری کے دائیں ہاتھ پر اعجاز بٹالوی بیٹھے ہیں۔
فیض احمد فیض
،تصویر کا کیپشنفیض احمد فیض اکثر لندن آتے تھے وہ جب بھی لندن آتے، بی بی سی کی عید ہو جاتی۔ ان سے باتیں کی جاتی، شعر سنے جاتے، بحث کی جاتی۔ یہ 1958 کی تصویر ہے جب وہ بی بی سی کے ایک شو میں نظم سنا رہے ہیں۔
پاکستان سیکشن کے سٹاف کا ایک گروپ فوٹو
،تصویر کا کیپشنانیس سو چھیاسٹھ میں بی بی سی پاکستان سیکشن کے سٹاف کا ایک گروپ فوٹو۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بی بی سی کی نشریات نیا روپ اختیار کرنے والی تھی جس سے آپ اب زیادہ مانوس ہیں۔ یعنی شعر، ادب، افسانہ اور ڈرامہ نشریات سے خارج ہوا اور صحافت، حالات حاضرہ اور سیاست نے اس کی جگہ لی۔
فیلڈ مارشل ایوب خان
،تصویر کا کیپشنفیلڈ مارشل ایوب خان فوجی قیادت سنبھالنے کے بعد پہلی بار لندن آئے تو بی بی سی نے ان سے انٹرویو کا خصوصی اہتمام کیا۔ تصویر میں نوجوان اطہر علی ان سے سوال پوچھ رہے ہیں۔
شمیم پینسر پروڈیوسر حسن ذکی کاظمی کے ساتھ
،تصویر کا کیپشنشمیم پینسر جنہوں نے تیس سال تک سامعین کے خطوط کا پروگرام ’انجمن‘ پیش کیا۔ تصویر میں وہ پروگرام کے پروڈیوسر حسن ذکی کاظمی کے ساتھ ہیں۔
ذوالفقار علی بخاری
،تصویر کا کیپشنذوالفقار علی بخاری کا شمار ہندوستان اور پاکستان کے نامور براڈکاسٹر کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ کراچی چلے گئے تھے اور ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انہی دنوں وہ دوبارہ لندن آئے تو بی بی سی کے لیے انہوں نے اپنی کچھ غزلیں ریکارڈ کی تھیں۔
بی بی سی لندن سے 1940 میں بچوں کے لیے پروگرام شروع ہو گیا تھا جس میں محمد علی ملیح آبادی دو چوہوں کی کہانی سنایا کرتے تھے۔ ’ سلامو اور چندو کی کہانی‘ بہت مقبول پروگرام تھا۔1967 میں اس پروگرام کو شاہین کلب کا نام دیا گیا اور اس میں ’سدو بھائی‘ کے نام سے شامل ایک کردار نے بے انتہا مقبولیت حاصل کی۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی لندن سے 1940 میں بچوں کے لیے پروگرام شروع ہو گیا تھا جس میں محمد علی ملیح آبادی دو چوہوں کی کہانی سنایا کرتے تھے۔ ’ سلامو اور چندو کی کہانی‘ بہت مقبول پروگرام تھا۔1967 میں اس پروگرام کو شاہین کلب کا نام دیا گیا اور اس میں ’سدو بھائی‘ کے نام سے شامل ایک کردار نے بے انتہا مقبولیت حاصل کی۔
تصویر میں سدو بھائی کرتا پاجامہ پہنے ہوئے سحاب قزلباش، یونس واسطی اور اوشا جوشی کے ساتھ لپٌا ڈگی کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنتصویر میں سدو بھائی کرتا پاجامہ پہنے ہوئے سحاب قزلباش، یونس واسطی اور اوشا جوشی کے ساتھ لپٌا ڈگی کر رہے ہیں۔