آخری وقت اشاعت:  پير 8 نومبر 2010 ,‭ 18:37 GMT 23:37 PST

’دراندازی کو بہانہ نہ بنائیں‘

میڈیا پلئیر

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

کشمیر انٹرویوز کے سلسلے میں سنئیے بھارت کے آئینی ماہر راجیو دھون کی گفتگو جو کہتے ہیں کہ دفعہ تین سو ستر کے تحت بھارت اور کشمیر کا رشتہ مستحکم ہے مگر بھارتی حکومت نے خود ہی اس کو بار بار زائل کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہماری ساتھی نعیمہ احمد مہجور نے راجیو دھون سے مسئلہ کشمیر کے قانونی پہلوؤں اور بھارتی آئین میں ریاست جموں و کشمیر کی حثیت کے بارے میں بات کی۔

راجیو دھون کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ہونے والی دراندازی کو کشمیر کو خود مختاری نہ دینے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

خصوصی سیریز کشمیر کی بات میں مزید انٹرویوز:

کلِک ’ہندوستان کو کچھ کرنا پڑےگا‘ مورخ عائشہ جلال سے انٹرویو

کلِک ’بھارت نے ایک موقع پھر کھو دیا‘۔ سینیئر امریکی پالیسی ساز ڈیوڈ ککس سے انٹرویو۔

کلِک ’مسئلہ کشمیر کا حل خطے کے مفاد میں ہے‘ امریکی صدر براک اوباما کے جنوب ایشائی ملکوں کے مسلم امور سے متعلق مُشیر فاروق کاٹھواری

کلِک ’کشمیر پاکستانی عوام کا جذباتی مسئلہ‘ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے سابق مشیر یوسف

کلِک کشمیر مسئلے کا حل بھارتی آئین سے ڈھونڈا جا سکتا ہے: برصغیر کے مورخ اور دانشور پروفیسر مشیر الحسن

کلِک ’یہ مسئلہ نئی دہلی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا‘ ہیرٹیج فانڈیشن کے ساتھ وابستہ لیزا کرٹس

کلِک ’آزادی یا آزادی کے برابر اختیار بہترین حل‘ جنوب ایشیائی امور کے ماہر پروفیسر رابرٹ ورسنگ

[an error occurred while processing this directive]

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔