بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سات مرحلوں میں اسمبلی انتخابات بدھ سے شروع ہو رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کی ریاست اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بدھ کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ سیاسی جماعتوں نے ریاست میں زبردست انتخابی مہم چلائی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیوپی کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کی جماعت بی ایس پی کو اس بار روایتی حریف ملائم سنگھ یادو کی جماعت کی طرف سے زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔
،تصویر کا کیپشنایودھیا- فیض آباد کے جڑواں شہر میں بھی اس مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ لکھنؤ سے پہلے فیض آباد ہی ریاست کا دارلحکومت ہوا کرتا تھا۔
،تصویر کا کیپشنگلاب باڑی جیسی خوبصورت عمارتوں سے فیض آباد کی پرانی شان و شوکت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
،تصویر کا کیپشنایودھیاکی مذہبی حیثیت اور ضلعی ہیڈ کوارٹر ہونے کے سبب یہاں لاکھوں لوگ آتے ہیں۔ لیکن یہ ریلوے سٹیشن یہاں کی بدانتظامی اور بدحالی کا نمونہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنایودھیا کے بازار ہمیشہ پوجا اور دیگر رنگ برنگے ساز و سامان سے بھرے ہوتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنایودھیا کا گھاٹ دریائے گھاگھرا (سریو) کے کنارے بنا ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشناس مندر کے بارے میں یہ روایت منسوب ہے کہ بگھوان رام جب سیتا جی کو بیاہ کر یہاں لائے تو ان کے والد راجہ دشرتھ نے اسے سیتا دیوی کو منہ دکھائی میں دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنیہ محل بھگوان رام کے والد راجہ دشرتھ سے منسوب ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنیہ رام مندر کا خاکہ ہے۔ یہ منہدم بابری مسجد کے متنازع مقام سے ذرا دوری پر ایک کاریہ شالہ میں رکہ ہو اہے۔
،تصویر کا کیپشناس کاریہ شالا میں مجوزہ مندر کے ستون اور درو دیوار پوری طرح تیار حالت میں رکھے ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن یہاں ہزاروں سادھو رہتے ہیں جو عبادت اور روحانیت میں مشغول رہتے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جو یہاں سے کبھی کہیں اور نہیں گئے۔
،تصویر کا کیپشنایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد خاصی سکیورٹی رہتی ہے۔ بابری مسجد کی اطراف کی زمین کو حکومت نے حاصل کر لیا ہے اور مسجد کے مقام پر نصب کیے گئے اور سینکڑوں اہلکار اس عارضی مندر کی حفاظت پر تعینات ہیں۔