کینیڈا میں محققین کو جھینگر سے ملتے جلتے حشرات کے انوکھے جنسی عمل کا پتہ چلا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکینیڈا میں محققین کو جھینگر سے ملتے جلتے حشرات کے انوکھے جنسی عمل کا پتہ چلا ہے۔ عام طور پر اسے ٹڈے کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ پہاڑی چوٹیوں پر واقع جھاڑیوں میں پایا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دو مختلف نسلوں کے کیڑے دو نسلی بچے پیدا کرتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک نسل کی مادہ جنسی طور پر دوسری نسل کے نر کو کھا جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس تصویر میں بکلز ٹڈا اور بڑی جسامت کے ٹڈے کی مادہ جھینگر جنسی عمل کے دوران ان کو کھاتی ہیں۔ اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کیون جج کا کہنا ہے کہ مادہ جھینگر کنوارے نر جھینگر پر جھپٹا مارتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر کیون جج نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جنسی عمل سے پہلے دونوں کی آوازیں ایک جیسی سنائی دیتی ہیں، ان کے خیال میں مادہ جھینگر بڑے جھینگر کے گانے پر متوجہ ہوتی ہیں اور جب وہ اس کے بڑے پروں کو دیکھتی ہیں تو کھانے کے لیے آگے بڑھتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجب مادہ جھینگر نر کے پروں کو کھاتی ہے تو اس وقت نر مادہ کو پشت سے جنسی عمل کے لیے پکڑ نہیں سکتا۔ تجربات سے ثابت ہوا کہ مادہ جب بھوکی ہوتی ہے تو نر جھینگر سے ہم صحبت ہوتی ہے اور یہ عمل دیکھنے میں ایسے لگتا ہے کہ کافی جد وجہد کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر کیون جج کے مطابق نر جھینگر کا جنسی عمل کرنے کی غلطی کرنا غیر معمولی نہیں ہے۔ ایک دوسرے مشاہدے سے ثابت ہوا ہے کہ ایک نر کیڑے نے بیئر کی خالی بوتل سے جنسی عمل کرنے کی کوشش کی کیونکہ اس کی ساخت مادہ کیڑے سے ملتی جلتی تھی۔
،تصویر کا کیپشنتحقیق کے دوران ڈاکٹر کیون جج نے ایسے حشرات دریافت کیے جو دونوں نسلوں کے حشرات سے ملتے جلتے تھے یا ہائی برڈ حشرات تھے۔ اور یہ دونوں آپس میں اتنی مشابہت رکھتے تھے کہ باریک بینی سے جائزہ لیے بغیر ان میں فرق محسوس نہیں کیا جا سکتا تھا۔
،تصویر کا کیپشنسائنسدان ان حشرات کا ارتقاء کے بنیادی تصور کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ قدیم حشرات ہیں اور ماضی میں یہ کبھی الگ الگ ہوا کرتے تھے اور سائنسدان جاننا چاہتے ہیں کہ ان میں ہائی برڈ کیوں ممکن ہیں۔
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر کیون جج کے مطابق ہم عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مادہ بچوں کی دیکھ بھال اور نسل بڑھانے میں بہت زیادہ توجہ دیتی ہے لیکن اس عمل میں نر کہاں ہیں، اس سوچ میں مکمل تبدیلی لانی ہو گی۔