پراسرار شامیں، ٹوٹے پتے اور تنہائی: لمبی کالی راتوں پر آپ کی تصاویر سے انتخاب
،تصویر کا کیپشناس مرتبہ ہم نے اپنے قارئین سے ’لمبی کالی راتوں کے موضوع‘ پر تصویر بھیجنے کو کہا تھا اور اس سلسلے میں پہلی تصویر مجید بابر نے بھیجی ہے جو انھوں نے چند سال قبل امریکی ریاست میری لینڈ میں کھینچی تھی۔
،تصویر کا کیپشنعاصم محمود: ’میں نے یہ تصویر میلبرن میں دریائے یارا پر کھینچی۔‘
،تصویر کا کیپشنکاشف نذیر: ’یہ تصویر رات کے وقت سیالکوٹ میں عید میلاد النبی کے موقع پر لی گئی تھی۔ مجاہد روڈ پر چراغاں بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔‘
،تصویر کا کیپشنشامر مرزا: ’میں نے یہ تصویر سویڈن میں کھینچی تھی۔ ٹوٹے پتے اور تنہائی، یہ منظر کتنا رومانوی ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنریاض بھنبھرو: وہ ایک اندھیری رات تھی جب میں نےنادرن لائٹس دیکھیں اور اس خوبصورت قدرتی منظر کو تصویر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ تصویر موسم سرما میں سویڈن کے شہر لولیا میں لی گئی تھی۔‘
،تصویر کا کیپشنفضل معبود: ’چودھویں کا چاند بادلوں کے اوٹ سے جھانکتا ہوا۔‘
،تصویر کا کیپشنباقر جعفر نے اس تصویر کو موضوع دیا ہے ’آسٹریلیا کے شہر جنوبی پرتھ کی پراسرار شامیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ مغربی آسٹریلیا میں غروبِ آفتاب کے مناظر بہت دلکش ہوتے ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنمرسلان حیدر نے یہ تصویر 31 دسمبر کی رات ابو ظہبی میں کھینچی تھی۔
،تصویر کا کیپشنخان سجاد: ’یہ تصویر میں نے بحری جہاز پر کیریبیئن جاتے ہوئے کھینچی تھی۔‘
،تصویر کا کیپشنریحان الحق نے تھائی لینڈ کے شہر بینکاک کے رات کے منظر کی یہ تصویر بھیجی ہے۔
،تصویر کا کیپشنکامران احمد: ’یہ تصویر میں نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ میں کھینچی تھی۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا اور مجھے یہ منظر بہت پیارا لگا۔‘
،تصویر کا کیپشنظہیر الدین فخر: ’میں نے حال ہی میں یہ تصویر دبئی میں فجر کی اذان کے وقت کھینچی تھی۔‘