،تصویر کا کیپشنمصر میں سنیچر کو ملک کے سابق سربراہ حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف کامیاب انقلاب کی تیسری سالگرہ منائی گئی
،تصویر کا کیپشن سالگرہ کے موقع پر تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔ 25 جنوری 2011 کو مصر میں حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ہوا تھا اور اس عوامی بغاوت نے ان کے کئی دہائیوں پر مشتمل عہد کا خاتمہ کر دیا تھا
،تصویر کا کیپشنانقلاب کے آغاز کے تین برس کی تکمیل کے موقع پر فوج کی حمایت یافتہ موجودہ حکومت اور معزول صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین دونوں کے حامیوں نے جلسے منعقد کرنے اور جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے عبوری صدر جنرل السیسی صدر کا انتخاب لڑیں گے اور مصر میں ایک بار پھر فوج کا مضبوط آدمی برسرِاقتدار آ جائے گا جیسا کہ گذشتہ چھ دہائیوں میں رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع تحریر سکوائر سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کا مرکزی پوائنٹ تھا اور سنیچر کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع تھی
،تصویر کا کیپشنملک اور خصوصاً دارالحکومت قاہر میں موجود کشیدگی کی وجہ سے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ برسی سے ایک دن پہلے جمعہ کو تشدد کے واقعات میں چھ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنقاہرہ میں جہاں ایک طرف سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کا جشن منایا گیا وہیں کئی لوگوں نے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی کے حق میں پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ خوان المسلمین گذشتہ جولائی سے سراپا احتجاج ہے جب ان کے سربراہ محمد مرسی کو صدر کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ اب ان کی جگہ فوج کی حمایت کے ساتھ جنرل عبدالفتح السیسی ملک کے عبوری صدر ہیں
،تصویر کا کیپشنتحریر سکوائر میں انقلاب کے حامیوں نے روایتی رقص بھی کیے
،تصویر کا کیپشنسالگرہ کی تقریبات میں کشیدہ صورتحال کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے بچوں کے ساتھ شرکت کی
،تصویر کا کیپشنرواں ماہ ہی مصر میں نیا آئین متعارف کرانے کے لیے کرائے گئے ریفرنڈم میں عوام کے 98.1 فیصد شرکا نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔جس کے ریاست کا مذہب اسلام رہے گا تاہم دیگر عقائد اور اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا
،تصویر کا کیپشن جنرل عبدالفتح السیسی نے ملک کے نئے صدر بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے