مصر میں انقلاب کی تیسری سالگرہ

وقت اشاعت

تیسری سالگرہ کے موقع قاہرہ کے تحریر سکوائر پر جشن

مصر میں سنیچر کو ملک کے سابق سربراہ حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف کامیاب انقلاب کی تیسری سالگرہ منائی گئی
،تصویر کا کیپشنمصر میں سنیچر کو ملک کے سابق سربراہ حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف کامیاب انقلاب کی تیسری سالگرہ منائی گئی
 سالگرہ کے موقع پر تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔ 25 جنوری 2011 کو مصر میں حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ہوا تھا اور اس عوامی بغاوت نے ان کے کئی دہائیوں پر مشتمل عہد کا خاتمہ کر دیا تھا
،تصویر کا کیپشن سالگرہ کے موقع پر تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے۔ 25 جنوری 2011 کو مصر میں حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ہوا تھا اور اس عوامی بغاوت نے ان کے کئی دہائیوں پر مشتمل عہد کا خاتمہ کر دیا تھا
انقلاب کے آغاز کے تین برس کی تکمیل کے موقع پر فوج کی حمایت یافتہ موجودہ حکومت اور معزول صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین دونوں کے حامیوں نے جلسے منعقد کرنے اور جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے عبوری صدر جنرل السیسی صدر کا انتخاب لڑیں گے اور مصر میں ایک بار پھر فوج کا مضبوط آدمی برسرِاقتدار آ جائے گا جیسا کہ گذشتہ چھ دہائیوں میں رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنانقلاب کے آغاز کے تین برس کی تکمیل کے موقع پر فوج کی حمایت یافتہ موجودہ حکومت اور معزول صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین دونوں کے حامیوں نے جلسے منعقد کرنے اور جلوس نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے عبوری صدر جنرل السیسی صدر کا انتخاب لڑیں گے اور مصر میں ایک بار پھر فوج کا مضبوط آدمی برسرِاقتدار آ جائے گا جیسا کہ گذشتہ چھ دہائیوں میں رہا ہے۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع تحریر سکوائر سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کا مرکزی پوائنٹ تھا اور سنیچر کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع تھی
،تصویر کا کیپشنمصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع تحریر سکوائر سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کا مرکزی پوائنٹ تھا اور سنیچر کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع تھی
ملک اور خصوصاً دارالحکومت قاہر میں موجود کشیدگی کی وجہ سے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ برسی سے ایک دن پہلے جمعہ کو تشدد کے واقعات میں چھ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے
،تصویر کا کیپشنملک اور خصوصاً دارالحکومت قاہر میں موجود کشیدگی کی وجہ سے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ برسی سے ایک دن پہلے جمعہ کو تشدد کے واقعات میں چھ افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے
قاہرہ میں جہاں ایک طرف سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کا جشن منایا گیا وہیں کئی لوگوں نے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی کے حق میں پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ خوان المسلمین گذشتہ جولائی سے سراپا احتجاج ہے جب ان کے سربراہ محمد مرسی کو صدر کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ اب ان کی جگہ فوج کی حمایت کے ساتھ جنرل عبدالفتح السیسی ملک کے عبوری صدر ہیں
،تصویر کا کیپشنقاہرہ میں جہاں ایک طرف سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کا جشن منایا گیا وہیں کئی لوگوں نے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی کے حق میں پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ خوان المسلمین گذشتہ جولائی سے سراپا احتجاج ہے جب ان کے سربراہ محمد مرسی کو صدر کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ اب ان کی جگہ فوج کی حمایت کے ساتھ جنرل عبدالفتح السیسی ملک کے عبوری صدر ہیں
تحریر سکوائر میں انقلاب کے حامیوں نے روایتی رقص بھی کیے
،تصویر کا کیپشنتحریر سکوائر میں انقلاب کے حامیوں نے روایتی رقص بھی کیے
سالگرہ کی تقریبات میں کشیدہ صورتحال کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے بچوں کے ساتھ شرکت کی
،تصویر کا کیپشنسالگرہ کی تقریبات میں کشیدہ صورتحال کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے بچوں کے ساتھ شرکت کی
رواں ماہ ہی مصر میں نیا آئین متعارف کرانے کے لیے کرائے گئے ریفرنڈم میں عوام کے 98.1 فیصد شرکا نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔جس کے ریاست کا مذہب اسلام رہے گا تاہم دیگر عقائد اور اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا
،تصویر کا کیپشنرواں ماہ ہی مصر میں نیا آئین متعارف کرانے کے لیے کرائے گئے ریفرنڈم میں عوام کے 98.1 فیصد شرکا نے اس کے حق میں ووٹ ڈالا تھا۔جس کے ریاست کا مذہب اسلام رہے گا تاہم دیگر عقائد اور اقلیتوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا
 جنرل عبدالفتح السیسی نے ملک کے نئے صدر بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے
،تصویر کا کیپشن جنرل عبدالفتح السیسی نے ملک کے نئے صدر بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے