ڈبے والے کیمرے

وقت اشاعت

افغانستان کی ’کیمرا فوری‘ کی دم توڑتی روایت

 آسٹریا کے آرٹسٹ لُوکس برک اور آئرلینڈ کے ماہر بشریات شین فولی گذشتہ تین برسوں سے افغانستان میں ڈبے والے کیمرے کی تیزی سے دم توڑتی ہوئی روایت کا مطالعہ کر رہے ہیں۔اس دوران وہ گلی محلوں میں گھوم پھر کے تصاویر اتارنے والے فوٹو گرافروں سے ملے۔
،تصویر کا کیپشن آسٹریا کے آرٹسٹ لُوکس برک اور آئرلینڈ کے ماہر بشریات شین فولی گذشتہ تین برسوں سے افغانستان میں ڈبے والے کیمرے کی تیزی سے دم توڑتی ہوئی روایت کا مطالعہ کر رہے ہیں۔اس دوران وہ گلی محلوں میں گھوم پھر کے تصاویر اتارنے والے فوٹو گرافروں سے ملے۔
اپنے سفر میں یہ لوگ کابل، ہرات، مزارِشریف، جلال آباد اور پشاور گئے۔ لکڑی کے ڈبے والے ’کیمرائے فوری‘ سے تصاویر بنانے والے فوٹوگرافروں نے فولی اور برک کو اپنے گھر اور سٹوڈیوز دکھائے جہاں وہ اس قدیم کیمرے سے کام کرتے تھے۔
،تصویر کا کیپشناپنے سفر میں یہ لوگ کابل، ہرات، مزارِشریف، جلال آباد اور پشاور گئے۔ لکڑی کے ڈبے والے ’کیمرائے فوری‘ سے تصاویر بنانے والے فوٹوگرافروں نے فولی اور برک کو اپنے گھر اور سٹوڈیوز دکھائے جہاں وہ اس قدیم کیمرے سے کام کرتے تھے۔
ہاتھ سے بنے ہوے ’کیمرائے فوری‘ میں کیمرا اور ڈارک رُوم دونوں موجود ہوتے ہیں۔افغانستان میں یہ کیمرا سالہاسال سے استعمال میں رہا ہے ۔
،تصویر کا کیپشنہاتھ سے بنے ہوے ’کیمرائے فوری‘ میں کیمرا اور ڈارک رُوم دونوں موجود ہوتے ہیں۔افغانستان میں یہ کیمرا سالہاسال سے استعمال میں رہا ہے ۔
یہ کیمرا مکمل طور پر ہاتھ سے چلتا ہے اور اس میں بجلی یا بیٹری کا کوئی عمل دخل نہیں اور تصویر فلم کی بجائے براہ راست کاغذ پر منتقل کر دی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ کیمرا مکمل طور پر ہاتھ سے چلتا ہے اور اس میں بجلی یا بیٹری کا کوئی عمل دخل نہیں اور تصویر فلم کی بجائے براہ راست کاغذ پر منتقل کر دی جاتی ہے۔
طالبان کی حکومت نے ٹیلی ویژن، موسیقی اور سینیما کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ اس سے مجبور ہو کے کئی روایتی فوٹوگرافروں کو اپنے کیمرے تباہ کرنے یا چھُپانے پڑے۔
،تصویر کا کیپشنطالبان کی حکومت نے ٹیلی ویژن، موسیقی اور سینیما کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ اس سے مجبور ہو کے کئی روایتی فوٹوگرافروں کو اپنے کیمرے تباہ کرنے یا چھُپانے پڑے۔
افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات کو بھانپتے ہوئے سنہ 2001 سے ہرات کے فوٹوگرافر حکمت اللہ ارباب زادہ نے ’کیمرائے فوری‘ سے بنائی ہوئی تصاویر جمع کرنا شروع کر دیں۔ بقول ان کے اس ’خزانے‘ میں زیادہ تر تصاویر سکول کے بچوں کی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں بدلتے ہوئے حالات کو بھانپتے ہوئے سنہ 2001 سے ہرات کے فوٹوگرافر حکمت اللہ ارباب زادہ نے ’کیمرائے فوری‘ سے بنائی ہوئی تصاویر جمع کرنا شروع کر دیں۔ بقول ان کے اس ’خزانے‘ میں زیادہ تر تصاویر سکول کے بچوں کی ہیں۔
برک اور فولی نے اپنے سفر میں جو دیگر تصاویر دیکھیں ان میں یہ فیملی پورٹریٹ بھی شامل ہے۔ عبدالصمد نے اپنی ماں اور گھر کے دوسرے افراد کی تصاویر افغانستان میں خانہ جنگی اور بعد میں طالبان حکومت کی سختیوں کے باوجود سنبھال کے رکھیں۔
،تصویر کا کیپشنبرک اور فولی نے اپنے سفر میں جو دیگر تصاویر دیکھیں ان میں یہ فیملی پورٹریٹ بھی شامل ہے۔ عبدالصمد نے اپنی ماں اور گھر کے دوسرے افراد کی تصاویر افغانستان میں خانہ جنگی اور بعد میں طالبان حکومت کی سختیوں کے باوجود سنبھال کے رکھیں۔
یہ ’کیمرائے فوری‘ سے لی ہوئی ایک تصویر ہے جسے جدید ڈجیٹل تکنیک کے ذریعے رنگین بنایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنیہ ’کیمرائے فوری‘ سے لی ہوئی ایک تصویر ہے جسے جدید ڈجیٹل تکنیک کے ذریعے رنگین بنایا گیا۔