مزدوروں کے عالمی دن پر دنیا بھر میں تقریبات اور مظاہرے
،تصویر کا کیپشندنیا بھر کے 80 ممالک کے لوگ ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن مناتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں پانچ ہزار کے قریب لوگوں نے مظاہرہ کیا اور ملک کے صدر پاک گُن ہے سے گذشتہ دنوں ڈوبنے والے بحری جہاز کے سانحے کی ذمے داری قبول کرنے کا مطالبہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنجنوب مشرقی ایشیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک اِنڈونیشیا کے دارلحکومت جکارتہ میں 20 لاکھ کے قریب لوگوں نے مزدوروں کے لیے بہتر سہولیات کا مطالبہ کرتے ہوئے صدارتی محل کے آگے مظاہرہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنملیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں بڑھتے ہوئے ٹیکس اور روزمرہ زندگی میں مہنگائی کے پیشِ نظر لوگوں نے سڑکوں کا رخ کیا۔
،تصویر کا کیپشن1917 تک روس میں مزدوروں کا عالمی دن منانا غیر قانونی تھا، تاہم اب روس میں اس دن نہ صرف سرکاری چھٹی ہوتی ہے، بلکہ دارالحکومت ماسکو کے ریڈ سکوئر میں اس دن پر منقعد ہونے والی تقریب کا شمار ملک کی سب سے بڑی تقاریب میں ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنترکی میں جب مظاہرہ کرنے والوں نے تقسیم سکوئر کا رخ کیا تو پولیس نے لوگوں کو روک دیا۔ مظاہرین نے غلیلوں سے پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نےانھیں منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں مزدوروں سے متعلق پہلی جامع اور سرکاری پالیسی 1972 میں متعارف کروائی گئی تھی، جس کے بعد اس دن سرکاری چھٹی دینے کا اعلان کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنتائیوان کے شہر تائی پے میں لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کمپنی اور صنعتی اداروں کو کم تنخواہ پر مزدوروں کو کام دینے پر پابندی عائد کی جائے۔
،تصویر کا کیپشنفرانس میں یکم مئی کو ہر کام کرنے والے کو چٹھی کا حق حاصل ہے۔ ملازموں کو کمپنی یا مالکان قانونی طور پر یہ چھٹی لینے سے روک نہیں سکتے۔
،تصویر کا کیپشنشمالی یورپی ریاست لیتھیونیا کے شہر ولنس میں یکم مئی کو سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے عوام کے ساتھ یہ دن منایا۔
،تصویر کا کیپشنعراق میں جاری الیکشن کے دوران ملک کی کمیونسٹ پارٹی کے ارکان نے یہ دن منانے کے دارالحکومت بغداد میں رنگا رنگ تقاریب کا اِنقعاد کیا۔
،تصویر کا کیپشنفلسطینی مزدوروں نے روزمرہ استعمال کی چیزوں کی مہنگائی کے پیشِ نظر مظاہرے میں شرکت کی۔