’فیری ڈورز‘ کی بہتات پر کونسل کی تنبیہہ

وقت اشاعت

انگلینڈ کے شہر کریو کرن میں لوگوں نے گذشتہ کچھ سالوں میں درخت کے تنوں میں ’فیری ڈورز‘ بنانا شروع کر دیے ہیں۔

انگلینڈ کے شہر کریو کرن میں لوگوں نے گذشتہ کچھ سالوں میں درخت کے تنوں میں ’فیری ڈورز‘ (Fairy Doors) بنانا شروع کر دیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کے شہر کریو کرن میں لوگوں نے گذشتہ کچھ سالوں میں درخت کے تنوں میں ’فیری ڈورز‘ (Fairy Doors) بنانا شروع کر دیے ہیں۔
چند سالوں میں ان ’فیری ڈورز‘ کی تعداد 200 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنچند سالوں میں ان ’فیری ڈورز‘ کی تعداد 200 سے زیادہ ہو گئی ہے۔
تاہم کریو کرن کے علاقے ویورڈ وڈز کی کونسل نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ درختوں کے تنوں میں مزید ’فیری ڈورز‘نہ بنائیں۔
،تصویر کا کیپشنتاہم کریو کرن کے علاقے ویورڈ وڈز کی کونسل نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ درختوں کے تنوں میں مزید ’فیری ڈورز‘نہ بنائیں۔
کونسل کا مزید کہنا ہے کہ کچھ عمر رسیدہ لوگ جو اس علاقے میں سیر و تفریح کرتے ہیں انھوں نے بھی شکایت کی ہے کہ لوگوں کے آنے جانے سے اس علاقے کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنکونسل کا مزید کہنا ہے کہ کچھ عمر رسیدہ لوگ جو اس علاقے میں سیر و تفریح کرتے ہیں انھوں نے بھی شکایت کی ہے کہ لوگوں کے آنے جانے سے اس علاقے کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے۔
کونسل کا کہنا ہے کہ ’ہم ’فیری ڈورز‘ کے خلاف نہیں لیکن یہ کنٹرول سے باہر ہو رہا تھا۔‘
،تصویر کا کیپشنکونسل کا کہنا ہے کہ ’ہم ’فیری ڈورز‘ کے خلاف نہیں لیکن یہ کنٹرول سے باہر ہو رہا تھا۔‘
ویورڈ وڈز نوے کی دہائی میں خیراتی ادارے کے تحت آیا تھا اور سب سے پہلا ’فیری ڈور‘ سنہ 2000 میں بنایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنویورڈ وڈز نوے کی دہائی میں خیراتی ادارے کے تحت آیا تھا اور سب سے پہلا ’فیری ڈور‘ سنہ 2000 میں بنایا گیا۔
کونسل کا کہنا ہے کہ پچھلے سال 200 ’فیری ڈورز‘ مختلف درختوں پر نصب کیے گئے۔
،تصویر کا کیپشنکونسل کا کہنا ہے کہ پچھلے سال 200 ’فیری ڈورز‘ مختلف درختوں پر نصب کیے گئے۔
کونسل کا مزید کہنا ہے کہ ان ’فیری ڈورز‘ کو دیکھنے آنے والے لوگ پھولوں کو کچل دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکونسل کا مزید کہنا ہے کہ ان ’فیری ڈورز‘ کو دیکھنے آنے والے لوگ پھولوں کو کچل دیتے ہیں۔
ان ’فیری ڈورز‘ کو دیکھنے بچے اور بڑے سب ہی آتے ہیں اور ان میں تحائف اور پیغامات رکھتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنان ’فیری ڈورز‘ کو دیکھنے بچے اور بڑے سب ہی آتے ہیں اور ان میں تحائف اور پیغامات رکھتے ہیں۔