کراچی ٹیکسٹائل فیشن شو

وقت اشاعت

کراچی میں منعقد ہونے والے ٹیکسٹائل فیشن شو میں غیر ملکی ماڈلز کی بھی شرکت

کراچی میں ہونے والا فیشن شو میں پہلی بار ڈیزائنروں کی جگہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ملبوسات کی کلیکشن پیش کی گئی۔
،تصویر کا کیپشنکراچی میں ہونے والا فیشن شو میں پہلی بار ڈیزائنروں کی جگہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ملبوسات کی کلیکشن پیش کی گئی۔
شو میں الکرم، الزہیب، موٹیؤز، سونیا باٹلا اور دیگر کئی ٹیکسٹائل ڈیزائنروں نے شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنشو میں الکرم، الزہیب، موٹیؤز، سونیا باٹلا اور دیگر کئی ٹیکسٹائل ڈیزائنروں نے شرکت کی۔
شو کے لیے خاص برطانیہ سے پانچ ماڈلوں کا چناؤ کیا گیا۔ ان میں مس برازیل پاولا سوزا بھی شامل تھیں۔
،تصویر کا کیپشنشو کے لیے خاص برطانیہ سے پانچ ماڈلوں کا چناؤ کیا گیا۔ ان میں مس برازیل پاولا سوزا بھی شامل تھیں۔
شو کی پروڈکشن کی خدمات برطانوی فیشن پروڈیسر کرس ایسٹ نے انجام دیں۔
،تصویر کا کیپشنشو کی پروڈکشن کی خدمات برطانوی فیشن پروڈیسر کرس ایسٹ نے انجام دیں۔
فیشن شو کے علاوہ ریمپ پر خواتین کے حقوق کے موضوع پر تصاویر بنانے والی معروف پینٹر شازلی خان کی پینٹنگز بھی دکھائی گئیں۔
،تصویر کا کیپشنفیشن شو کے علاوہ ریمپ پر خواتین کے حقوق کے موضوع پر تصاویر بنانے والی معروف پینٹر شازلی خان کی پینٹنگز بھی دکھائی گئیں۔
شو کے آرگنائزر عدنان انصاری، جو کہ لندن میں پاکستان فیشن ویک منعقد کرواتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس شو کا مقصد فیشن کی دنیا میں پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ دینا اور ان کو مین سٹریم لے کر آنا ہے۔
،تصویر کا کیپشنشو کے آرگنائزر عدنان انصاری، جو کہ لندن میں پاکستان فیشن ویک منعقد کرواتے ہیں، کا کہنا ہے کہ اس شو کا مقصد فیشن کی دنیا میں پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ دینا اور ان کو مین سٹریم لے کر آنا ہے۔
پاکستان میں عموماً ٹیکسٹائل انڈسٹری، فیشن شوز میں اپنی کلیکشن پیش نہیں کرتی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں عموماً ٹیکسٹائل انڈسٹری، فیشن شوز میں اپنی کلیکشن پیش نہیں کرتی۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت ہے، اور ملک کی برآمدات میں اس کا حصہ 50 فیصد ہے۔ (تصاویر، بشکریہ۔ فیشن سائن)
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت ہے، اور ملک کی برآمدات میں اس کا حصہ 50 فیصد ہے۔ (تصاویر، بشکریہ۔ فیشن سائن)