کنزرویٹو پارٹی کی جیت

وقت اشاعت

برطانیہ میں عام انتخابات کے مکمل نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی دارالعوام میں ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون اپنی اہلیہ کے ساتھ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں داخل ہونے سے قبل۔
،تصویر کا کیپشنڈیوڈ کیمرون اپنی اہلیہ کے ساتھ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں داخل ہونے سے قبل۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ ڈیوڈ کیمرون برطانوی روایت کے مطابق ملکۂ برطانیہ سے ملاقات کی۔
،تصویر کا کیپشنانتخابات میں کامیابی کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ ڈیوڈ کیمرون برطانوی روایت کے مطابق ملکۂ برطانیہ سے ملاقات کی۔
انتخابی نتائج کے بعد لبرل ڈیموکریٹ کے سربراہ نک کلیگ اور یو کِپ جماعت کے رہنما نائیجل فراج مستعفی ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنانتخابی نتائج کے بعد لبرل ڈیموکریٹ کے سربراہ نک کلیگ اور یو کِپ جماعت کے رہنما نائیجل فراج مستعفی ہو گئے ہیں۔
برطانیہ میں عام انتخابات کے مکمل نتائج کے مطابق 650 میں 331 نشستیں جیت کر کنزرویٹو پارٹی 330 دارالعوام میں ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ میں عام انتخابات کے مکمل نتائج کے مطابق 650 میں 331 نشستیں جیت کر کنزرویٹو پارٹی 330 دارالعوام میں ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔
سات مئی کو برطانیہ میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں لاکھوں افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
،تصویر کا کیپشنسات مئی کو برطانیہ میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں لاکھوں افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ان انتخابات کے حتمی نتائج جمعے کی دوپہر تک آنے کی توقع ہے اور کنزرویٹو پارٹی کے دارالعوام میں ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی جماعت بننے کے امکانات یقینی دکھائی دیتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنان انتخابات کے حتمی نتائج جمعے کی دوپہر تک آنے کی توقع ہے اور کنزرویٹو پارٹی کے دارالعوام میں ایک مرتبہ پھر سب سے بڑی جماعت بننے کے امکانات یقینی دکھائی دیتے ہیں۔
لیبر پارٹی کو 234، لبرل ڈیموکریٹس کو 12، سکاٹش نیشنل پارٹی کو 56، پلائڈ کمری کو تین، یو کے آئی پی کو دو جبکہ گرین پارٹی کو ایک سیٹ مل سکتی ہے جبکہ دیگر جماعتوں کو کل 19 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
،تصویر کا کیپشنلیبر پارٹی کو 234، لبرل ڈیموکریٹس کو 12، سکاٹش نیشنل پارٹی کو 56، پلائڈ کمری کو تین، یو کے آئی پی کو دو جبکہ گرین پارٹی کو ایک سیٹ مل سکتی ہے جبکہ دیگر جماعتوں کو کل 19 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
اس الیکشن میں اندازاً پانچ کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے، جن کے لیے ملک بھر میں 50 ہزار کے قریب پولنگ سٹیشن بنائے گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشناس الیکشن میں اندازاً پانچ کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے، جن کے لیے ملک بھر میں 50 ہزار کے قریب پولنگ سٹیشن بنائے گئے تھے۔
لیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ خود تو جیت گئے ہیں لیکن انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ انتخابی نتائج ان کی جماعت کے لیے مایوس کن ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلیبر پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ خود تو جیت گئے ہیں لیکن انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ انتخابی نتائج ان کی جماعت کے لیے مایوس کن ہیں۔
جمعرات کو عام انتخابات کے علاوہ انگلینڈ میں 279 مقامی کونسلوں کے نو ہزار ارکان کے چناؤ کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی۔
،تصویر کا کیپشنجمعرات کو عام انتخابات کے علاوہ انگلینڈ میں 279 مقامی کونسلوں کے نو ہزار ارکان کے چناؤ کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی۔
انتخابات کے لیے زیادہ تر پولنگ مراکز سکولوں، سماجی سینٹروں اور گرجا گھروں میں قائم کیے گئے لیکن کچھ پولنگ مراکز شراب خانوں کے علاوہ لانڈری کی دکانوں اور ایک سکول بس میں بھی بنائے گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنانتخابات کے لیے زیادہ تر پولنگ مراکز سکولوں، سماجی سینٹروں اور گرجا گھروں میں قائم کیے گئے لیکن کچھ پولنگ مراکز شراب خانوں کے علاوہ لانڈری کی دکانوں اور ایک سکول بس میں بھی بنائے گئے تھے۔
کنزرویٹو پارٹی کے رہنما ڈیوڈ کیمرون بھی انتخاب جیت گئے ہیں اور ان کے دوسری بار ملک کے وزیرِ اعظم بننے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشنکنزرویٹو پارٹی کے رہنما ڈیوڈ کیمرون بھی انتخاب جیت گئے ہیں اور ان کے دوسری بار ملک کے وزیرِ اعظم بننے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
برطانوی شہر بریڈفرڈ سے دو پاکستانی نژاد امیدوار عمران حسین اور ناز شاہ لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں۔ ناز شاہ نے رسپیکٹ پارٹی کے مشہور سیاست دان جارج گیلووے کو ہرایا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرطانوی شہر بریڈفرڈ سے دو پاکستانی نژاد امیدوار عمران حسین اور ناز شاہ لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں۔ ناز شاہ نے رسپیکٹ پارٹی کے مشہور سیاست دان جارج گیلووے کو ہرایا ہے۔
تین چوتھائی سے زیادہ نتائج آنے کے بعد بی بی سی کے تازہ انتخابی اندازوں کے مطابق کنزرویٹو جماعت اس الیکشن میں 329 نشستیں جیت کر ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنتین چوتھائی سے زیادہ نتائج آنے کے بعد بی بی سی کے تازہ انتخابی اندازوں کے مطابق کنزرویٹو جماعت اس الیکشن میں 329 نشستیں جیت کر ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کر سکتی ہے۔
کئی ووٹ جمعرات سے پہلے ہی ڈاک کے ذریعے ڈالے جا چکے ہیں جن کی شرح 2010 کے عام انتخابات میں 15 فیصد رہی تھی اور اس وقت کل ٹرن آؤٹ 65 فیصد تھا۔
،تصویر کا کیپشنکئی ووٹ جمعرات سے پہلے ہی ڈاک کے ذریعے ڈالے جا چکے ہیں جن کی شرح 2010 کے عام انتخابات میں 15 فیصد رہی تھی اور اس وقت کل ٹرن آؤٹ 65 فیصد تھا۔