کیا پھانسیوں سے شدت پسندی رک جائے گی؟

وقت اشاعت

پاکستان میں آج بدھ کی صبح ایک اور مجرم کو سزائے موت دے دی گئی۔ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے آفتاب بہادر مسيح پر 1992 میں لاہور میں ایک خاتون سمیت تین افراد کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ اس وقت ان کي عمر 15 سال تھي۔ یہ پھانسی ایک ایسے وقت پر دی گئی ہے جب عالمی تنقید کے باوجود پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد بڑی تیزی سے جاری ہے۔ پشاور سکول حملے کے بعد حکومتِ پاکستان کے سزائے موت پر سے پابندی اٹھانے کے فيصلے کے بعد سے اب تک ڈیڑھ سو سے زيادہ افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ جب کہ آٹھ ہزار سے زيادہ قيدي سزائے موت کے منتظر ہیں۔ ہارون رشید کی رپورٹ