منی سکرٹ پہننے والی خواتین کی حمایت میں وکلا میدان میں

منی سکرٹ پہننے پر مراکش میں دو عورتوں کو گرفتار کر لیا گیا جس کے نتیجے میں کئی افراد نے عدالت کے باہر مظاہرے کیے
،تصویر کا کیپشنمنی سکرٹ پہننے پر مراکش میں دو عورتوں کو گرفتار کر لیا گیا جس کے نتیجے میں کئی افراد نے عدالت کے باہر مظاہرے کیے
وقت اشاعت

مراکش میں سینکڑوں وکلا نے ان دو عورتوں کا دفاع کرنے کے لیے خود کو رجسٹر کیا ہے جن کو تنگ لباس پہننے پر پولیس نے ان پر بداخلاقی کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق ان دونوں کو گذشتہ ماہ انزگان شہر میں گرفتار کیا گیا تھا جب وہ مارکیٹ میں سے گزر رہی تھیں اور ایک بازار کے تاجر نے ان کی طرف توجہ کی جس کے بعد ان کے گرد بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔

عورتوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیم ایل ڈی ڈی ایف کی سربراہ فوزیہ اصولی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’500 وکلا نے لڑکیوں کےدفاع کے لیے خود کو رجسٹر کیا لیکن کورٹ میں کم جگہ ہونے کی وجہ سے محض 200 حاضر ہو سکے۔‘

ملک بھر میں خواتین نے ایک بڑی تعداد میں مظاہرے کیے گیے اور مطالبہ کیا کہ عورت کو آزادی ہے کہ وہ کوئی بھی لباس پہن سکے
،تصویر کا کیپشنملک بھر میں خواتین نے ایک بڑی تعداد میں مظاہرے کیے گیے اور مطالبہ کیا کہ عورت کو آزادی ہے کہ وہ کوئی بھی لباس پہن سکے

ان کے کیس پر انسانی حقوق کے گروپوں نے احتجاج کیا اور سوشل میڈیا پر ایک مہم بھی شروع کی گئی۔ ایک انٹرنیٹ پٹیشن پر ہزاروں دستخط کیے گئے ہیں جس میں اس گرفتاری کو ذاتی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔

مراکش میں اس معاملے پر کئی مظاہرے بھی ہوئے جن میں احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ عورتوں کو لباس پہننے کی آزادی ہونی چاہیے۔

مراکش میں گذشتہ ماہ بھی اس وقت ایک تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا جب امریکی فنکارہ جینیفر لوپیز کی ’مختصر کپڑوں‘ میں پرفارمنس کو ’جنسی طور پر معنی خیز‘ سمجھا گیا تھا۔

ان خواتین کی عمریں 23 اور 19 سال ہیں اور ان پر تعزیرات کی اس شق کے تحت مقدمہ کیا جا رہا ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص جو ’عوامی فحاشی‘ کا مظاہرہ کرتا پکڑا جائے اسے دو سال تک جیل سزا ہو سکتی ہے۔

وکیل سبائی باکر کا کہنا تھا کہ ’یہ سماعت ہمارے ملک کو ایک موقع فراہم کرتی ہے جس سے وہ اپنے قوانین میں تبدیلی لا سکے اور انسانی حقوق اور خصوصاً انفرادی آزادی کے حوالے سے ذمہ داریوں کو پورا کر سکے۔

اس مقدمے کا فیصلہ 13 جولائی کو متوقع ہے۔