تھائی دارالحکومت میں بم دھماکے کے بعد ہلاک شدگان کی یاد میں تقاریب
،تصویر کا کیپشنبینکاک میں پیر کی شب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں لوگ پھولوں اور پیغاموں کے ساتھ شہر کے مرکز میں جمع ہوئے۔
،تصویر کا کیپشندھماکے کے بعد تحقیقات کا سلسلہ دوسرے دن بھی جاری رہا۔ تحقیقاتی ٹیموں نے زیادہ تر وقت جائے وقوع پرگزارا۔
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ وہ کسی تنظیم کے ملوث ہونے کے امکان خارج نہیں کر رہے ہیں جن میں اویغور گروپ کے علاوہ ان تنظیموں کو بھی نظر میں رکھا جا رہا ہے جو فوجی حکومت کے خلاف ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشہر کے میونسپلٹی ادارے نے دن بھر جائے وقوع اور آس پاس کے علاقوں کی صفائی جاری رکھی۔
،تصویر کا کیپشنتھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے اس بم دھماکے کو ملک میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ قرار دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ کرنے والے کا مقصد بڑی تعداد میں لوگوں کو ہلاک کرنا تھا
،تصویر کا کیپشنیہ دھماکہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں ایک مندر کے قریب ہوا تھا۔
،تصویر کا کیپشندھماکے میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجائے حادثہ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ انتہائی افراتفری کا عالم تھا اور جسمانی اعضا ہر طرف بکھرے پڑے تھے۔
،تصویر کا کیپشنبینکاک کے مرکز میں فائیو سٹار ہوٹل کے قریب واقع یہ مندر بہت مشہور ہے۔ مندر کے اردگرد موجود لوگ اس دھماکے کی زد میں آئے۔
،تصویر کا کیپشن پولیس اور امدادی ٹیمیں زخمیوں کو وہاں سے نکالنے کی کوششیں رات دیر تک کرتی رہیں۔