ایوارڈ یافتہ زہا حدید کے جدید ڈیزائن

وقت اشاعت

عراقی نژاد ماہر تمعیرات نے زہا حدید نے چینی شہر گونگ ژاؤ سے برطانیہ کے گلاسگو شہر تک کئی اہم عمارتیں ڈیزائن کی ہیں۔

رائل انسٹیٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹس (آر آئی بی اے) نے عراقی نژاد برطانوی خاتون زہا حدید کو تعمیرات کے شعبے میں نمایاں خدمات کے لیے طلائی تمغے سے نوازا تھا۔ وہ پہلی خاتون ہیں جنھیں اس شعبے میں خدمات کے لیے اس اعزاز سے نوازا گیا۔
،تصویر کا کیپشنرائل انسٹیٹیوٹ آف برٹش آرکیٹیکٹس (آر آئی بی اے) نے عراقی نژاد برطانوی خاتون زہا حدید کو تعمیرات کے شعبے میں نمایاں خدمات کے لیے طلائی تمغے سے نوازا تھا۔ وہ پہلی خاتون ہیں جنھیں اس شعبے میں خدمات کے لیے اس اعزاز سے نوازا گیا۔
عراق میں پیدا ہونی والی ماہر تعمیرات زہا حدید سنہ 1970 کی دہائی میں برطانیہ آئیں تھیں اور رواں سال 65 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ہیں۔
،تصویر کا کیپشنعراق میں پیدا ہونی والی ماہر تعمیرات زہا حدید سنہ 1970 کی دہائی میں برطانیہ آئیں تھیں اور رواں سال 65 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ہیں۔
زہا حدید نے 2012 کے لندن اولمپکس کے لیے ایکویٹکس سینٹر کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔ انھوں نے چینی شہر گونگ ژاؤ سے برطانیہ کے گلاسگو شہر تک کئی اہم عمارتیں ڈیزائن کی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنزہا حدید نے 2012 کے لندن اولمپکس کے لیے ایکویٹکس سینٹر کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔ انھوں نے چینی شہر گونگ ژاؤ سے برطانیہ کے گلاسگو شہر تک کئی اہم عمارتیں ڈیزائن کی ہیں۔
طلائی تمغہ وصول کرتے ہوئے زہا نے کہہا تھا کہ پہلی خاتون کے طور پر انھیں یہ ایوارڈ لیتے ہوئے بہت فخر ہو رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنطلائی تمغہ وصول کرتے ہوئے زہا نے کہہا تھا کہ پہلی خاتون کے طور پر انھیں یہ ایوارڈ لیتے ہوئے بہت فخر ہو رہا ہے۔
میکسی میوزیم کا ڈیزائن تیار کرتے ہوئے زہا کا کہنا تھا کہ وہ دریاؤں اور جھیلوں سے بہت متاثر ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیکسی میوزیم کا ڈیزائن تیار کرتے ہوئے زہا کا کہنا تھا کہ وہ دریاؤں اور جھیلوں سے بہت متاثر ہیں۔
اس میوزیم میں مختلف شکل کی کنکریٹ کی دیواروں کو جوڑا گیا ہے تاکہ ایسے علاقے میں جہاں زلزلے زیادہ آتے ہوں بلڈنگ کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔
،تصویر کا کیپشناس میوزیم میں مختلف شکل کی کنکریٹ کی دیواروں کو جوڑا گیا ہے تاکہ ایسے علاقے میں جہاں زلزلے زیادہ آتے ہوں بلڈنگ کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔
2012 میں انھیں ملکہ کی جانب سے خصوصی شاہی خطاب ’ڈیم‘ سے نوازا گیا تھا اور حدید اپنی گراں قدر خدمات کے سبب دنیا کے کئی دیگر ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں۔
،تصویر کا کیپشن2012 میں انھیں ملکہ کی جانب سے خصوصی شاہی خطاب ’ڈیم‘ سے نوازا گیا تھا اور حدید اپنی گراں قدر خدمات کے سبب دنیا کے کئی دیگر ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں۔
ڈیم زہا کہتی ہیں کہ ’مجھے لندن اولمپکس کا ایکویٹک سینٹر سے محبت ہے کیونکہ یہ اُس جگہ پر ہے جہاں میں رہتی ہوں۔‘ اس اولمپکس سینٹر میں 17500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
،تصویر کا کیپشنڈیم زہا کہتی ہیں کہ ’مجھے لندن اولمپکس کا ایکویٹک سینٹر سے محبت ہے کیونکہ یہ اُس جگہ پر ہے جہاں میں رہتی ہوں۔‘ اس اولمپکس سینٹر میں 17500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
آزربائیجان کے شہر باکو میں یہ سینٹر سنہ 2012 میں بنا۔
،تصویر کا کیپشنآزربائیجان کے شہر باکو میں یہ سینٹر سنہ 2012 میں بنا۔
تین عمارتوں کو ساتھ ملا کر جوڑا گیا ہے۔ لائبریری، کنسرٹ ہال اور کھلی جگہ۔
،تصویر کا کیپشنتین عمارتوں کو ساتھ ملا کر جوڑا گیا ہے۔ لائبریری، کنسرٹ ہال اور کھلی جگہ۔
یہ ایک غیر معمولی ڈایزائن ہے جو کسی پہاڑی سلسلے کی طرح ہے۔
،تصویر کا کیپشنیہ ایک غیر معمولی ڈایزائن ہے جو کسی پہاڑی سلسلے کی طرح ہے۔
ڈیم زہا نے 2004 میں پریٹزکر آرکیٹیکچر پرائز جیتا تھا اور ان کا چین کے شہر گوانگ ژاؤ کا اوپیرا ہاؤس کا ڈیزائن بہت سراہا گیا
،تصویر کا کیپشنڈیم زہا نے 2004 میں پریٹزکر آرکیٹیکچر پرائز جیتا تھا اور ان کا چین کے شہر گوانگ ژاؤ کا اوپیرا ہاؤس کا ڈیزائن بہت سراہا گیا
چینی شہر گونگ ژاؤ میں یہ ایک اوپرا کی عمارت ہے جیسےدریائے پرل سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنچینی شہر گونگ ژاؤ میں یہ ایک اوپرا کی عمارت ہے جیسےدریائے پرل سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔
بی بی سی آرٹ کے مدیر کا کہنا ہے کہ ’ڈیم زہا بہت اچھی انسان تھیں۔ وہ برطانیہ ہی کی نہیں بلکہ دنیا کی بہترین ماہر تعمیرات تھیں۔‘
،تصویر کا کیپشنبی بی سی آرٹ کے مدیر کا کہنا ہے کہ ’ڈیم زہا بہت اچھی انسان تھیں۔ وہ برطانیہ ہی کی نہیں بلکہ دنیا کی بہترین ماہر تعمیرات تھیں۔‘
آر آئی بی اے کی صدر جین ڈنکن نے کہا کہ وہ آرکیٹیکٹچر میں عالمی سطح پر بہت مضبوط اور اثر انگیز شخصیت کی مالک تھیں۔
،تصویر کا کیپشنآر آئی بی اے کی صدر جین ڈنکن نے کہا کہ وہ آرکیٹیکٹچر میں عالمی سطح پر بہت مضبوط اور اثر انگیز شخصیت کی مالک تھیں۔