’جدھر طلبہ و طالبات جائیں گے وہیں اساتذہ بھی‘
وقت اشاعت
خانہ بدوشوں کی زندگی کا ایک لازمی جز سفر ہے۔ لفظ خانہ بدوش کا مطلب ہی یہ ہے کہ ’گھر کندے پر ہے‘ یعنی ایک جگہ پڑاؤ ڈالا نہیں کہ دوسری جگہ جانے کی تیاری شروع۔ اِس طرزِ زندگی میں اِن کے بچوں کی تعلیم کا کیا ہو؟سکول تو ساتھ ساتھ چل نہیں سکتا۔
چولستان میں رہنے والے خانہ بدوشوں کا یہی مسئلہ ایک غیر سرکاری پروجیکٹ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کے تحت کچھ اساتذہ کو اِن خانہ بدوشوں کا ہمسفر بنا دیاگیا ہے۔ اِس وقت ایسے دس خاندان ہیں جن کے ساتھ دس ٹیچرز رہتے ہیں۔ اِن میں سے ایک محمد اسلم طاہر ہیں۔ اُن کی کہانی اُن ہی کی زبانی۔