ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والی مشہور تنظیم گرین پیس کے کارکنوں نے مجسموں کو ماسک پہنا دیے۔
،تصویر کا کیپشنفضائی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والی مشہور تنظیم ’گرین پِیس‘ کے کارکنوں نے لندن میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی جانب توجہ مبذول کرنے کے لیے انوکھے انداز میں احتجاج کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکارکنوں نے لندن میں مختلف مقامات پر ایستادہ تاریخی شخصیات کے مجسموں کے ناک منھ پر آلودگی سے بچاؤ والے نقاب یا ماسک باندھ دیے۔
،تصویر کا کیپشنگرین پِیس کے کارکنوں نے ملکہ وکٹوریہ کے مجسمے کے بعد پارلیمان کی عمارت کے قریب برطانیہ کے تاریخی فوجی اور سیاسی رہنما اولیور کرامویل کے مجسمے پر بھی ماسک باندھا۔
،تصویر کا کیپشنکارکنوں نے فٹبال کلب آرسنل کے ماضی کے مشہور کھلاڑی تھیری ہینری کے چہرے پر جو ماسک لگایا اس میں فٹ بال کی علامت کا بھی لحاظ رکھا۔
،تصویر کا کیپشنپارلیمان کی عمارت سے ذرا دور دریائے ٹیمز کے کنارے رومیوں کے خلاف لڑنے والی ملکہ بودیکہ کے گھوڑے پر سوار مجسمے کی ناک اور منھ کو بھی آلودگی سے بچاؤ کا ماسک پہنایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنپارلیمان کی عمارت کے باہر مشہور وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے کو عام ماسک کی بجائے زیریلی گیس سے بچاؤ والا ماسک پہنایا گیا۔
،تصویر کا کیپشنکچھ مجسموں کو احتجاجی کارکنوں نے ڈاکٹروں اور نرسوں والے ماسک بھی پہنائے جن میں محبت کی علامت ’ایروس‘ کامجسمہ بھی شامل تھا۔
،تصویر کا کیپشنبیکر سٹریٹ کے قریب کھڑے مشہور سراغرساں کردار شرلک ہومز کے مجسمے کے لیے اس ماسک کا انتخاب کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنبرٹش لائبریری کے باہر مشہور عالم ماہر طبیعیات آئزک نیوٹن کے بڑے مجسمے پر ماسک لگانا آسان نہیں تھا، چنانچہ یہ کام تین کارکنوں نے مل کر کیا۔
،تصویر کا کیپشنممنوعہ مقامات پر داخل ہونے اور بلند مجسموں پر چڑھتے ہوئے خود کو خطرے میں ڈالنے پر پولیس نے گرین پیس کے کچھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔