نیپال: زلزلے نے زندگیاں بدل دیں

وقت اشاعت

گذشتہ سال 25 اپریل کو نیپال میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا جس میں آٹھ ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔

گذشتہ سال 25 اپریل کو نیپال میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا جس میں آٹھ ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ فوٹوگرافر ایلیسن بیسکرویل نیپال میں نوجوان لوگوں سے ملیں جن کی زندگیاں ہمیشہ کے لیہ تبدیل ہو گئی ہیں۔ اما سلول (دائیں) اپنے گھر پر تھیں جب زلزلہ آیا۔ ’ہم دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب زمین ہلنے لگی۔ پہلے تو ہم سکتے میں آ گئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر ہم نے بھاگنا شروع کیا۔ مجھے نہیں یاد کہ کب مجھ پر دیوار گری۔ مجھے صرف یہ یاد ہے کہ لوگ بھاگ رہے تھے۔‘
،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال 25 اپریل کو نیپال میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا جس میں آٹھ ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ فوٹوگرافر ایلیسن بیسکرویل نیپال میں نوجوان لوگوں سے ملیں جن کی زندگیاں ہمیشہ کے لیہ تبدیل ہو گئی ہیں۔ اما سلول (دائیں) اپنے گھر پر تھیں جب زلزلہ آیا۔ ’ہم دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب زمین ہلنے لگی۔ پہلے تو ہم سکتے میں آ گئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر ہم نے بھاگنا شروع کیا۔ مجھے نہیں یاد کہ کب مجھ پر دیوار گری۔ مجھے صرف یہ یاد ہے کہ لوگ بھاگ رہے تھے۔‘
وہ انجینیئرنگ کی طالبہ تھیں۔ ان کے والد نیپال کی فائر سروس سے ریٹائر ہوئے تھے اور آمدنی کم ہو جانے کے باعث مشکلات کا سامنا تھا۔ ’مجھے معلوم تھا کہ مجھے پڑھائی کرنی ہے اور نوکری کرنی ہے تاکہ خاندان کی مدد کر سکوں۔‘
،تصویر کا کیپشنوہ انجینیئرنگ کی طالبہ تھیں۔ ان کے والد نیپال کی فائر سروس سے ریٹائر ہوئے تھے اور آمدنی کم ہو جانے کے باعث مشکلات کا سامنا تھا۔ ’مجھے معلوم تھا کہ مجھے پڑھائی کرنی ہے اور نوکری کرنی ہے تاکہ خاندان کی مدد کر سکوں۔‘
زلزلے میں ان کا مکان تباہ ہو گیا۔ خادان والوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اما کی والدہ مکان کی تعمیر بھی کر رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنزلزلے میں ان کا مکان تباہ ہو گیا۔ خادان والوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ اما کی والدہ مکان کی تعمیر بھی کر رہی ہیں۔
اما نے فیصلہ کیا کہ وہ انجینیئرنگ کی بجائے سماجی کاموں میں ڈگری حاصل کریں گی۔ ’زلزلے سے قبل میرے پاس کئی آپشنز تھیں۔ مجھے لگا کہ دو ٹانگوں کے ساتھ میں دو راستے اختیار کر سکتی ہوں۔ لیکن زلزلے کے بعد میرے پاس ایک ٹانگ رہ گئی ہے اور میرا راستہ اور بھی زیادہ واضح ہو گیا ہے۔ ان لوگوں کی مدد کرنا جو میری طرح مشکل میں ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشناما نے فیصلہ کیا کہ وہ انجینیئرنگ کی بجائے سماجی کاموں میں ڈگری حاصل کریں گی۔ ’زلزلے سے قبل میرے پاس کئی آپشنز تھیں۔ مجھے لگا کہ دو ٹانگوں کے ساتھ میں دو راستے اختیار کر سکتی ہوں۔ لیکن زلزلے کے بعد میرے پاس ایک ٹانگ رہ گئی ہے اور میرا راستہ اور بھی زیادہ واضح ہو گیا ہے۔ ان لوگوں کی مدد کرنا جو میری طرح مشکل میں ہیں۔‘
کھٹمنڈو میں امرت مگار اپنے کمرے میں سوئے ہوئے جب زلزلہ آیا۔ ان کے والدین کام پر گئے ہوئے تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کریں۔ انھوں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن میں عمارت کے ملبے تلے دب گئے۔ ہمساؤں نے ان کو ملبے سے نکالا اور ہسپتال لے کر گئے۔
،تصویر کا کیپشنکھٹمنڈو میں امرت مگار اپنے کمرے میں سوئے ہوئے جب زلزلہ آیا۔ ان کے والدین کام پر گئے ہوئے تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کریں۔ انھوں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن میں عمارت کے ملبے تلے دب گئے۔ ہمساؤں نے ان کو ملبے سے نکالا اور ہسپتال لے کر گئے۔
’جب دیاوار گری تو میں بے ہوش تھا۔ میں جب ہوش میں آیا تو میں سمجھا کہ میری ٹانگیں ٹھیک ہیں۔‘ امرت کو فریکچر وارڈ میں رکھا گیا اور پھر فیصلہ کیا گیا کہ ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑے گی۔ ’مجھے فٹ بال کھیلنا بہت پسند ہے اور میں سکول واپس جانا چاہتا تھا۔‘
ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ امرت کو گھر میں نہیں رھ سکتے کیونکہ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ امرت کو مقامی کلینک لے جانے کے لیے ٹیکسی کا کرایہ بھریں۔
،تصویر کا کیپشن’جب دیاوار گری تو میں بے ہوش تھا۔ میں جب ہوش میں آیا تو میں سمجھا کہ میری ٹانگیں ٹھیک ہیں۔‘ امرت کو فریکچر وارڈ میں رکھا گیا اور پھر فیصلہ کیا گیا کہ ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑے گی۔ ’مجھے فٹ بال کھیلنا بہت پسند ہے اور میں سکول واپس جانا چاہتا تھا۔‘ ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ امرت کو گھر میں نہیں رھ سکتے کیونکہ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ امرت کو مقامی کلینک لے جانے کے لیے ٹیکسی کا کرایہ بھریں۔
امرت کے بھائی نے ہسپتال میں امرت کے سرہانے چار ہفتے گزارے۔
،تصویر کا کیپشنامرت کے بھائی نے ہسپتال میں امرت کے سرہانے چار ہفتے گزارے۔
امرت کی والدہ نے ملبے میں سے ملنے والی خاندان کی فوٹو اٹھا رکھی ہے۔ وہ اب عارضی مکان میں رہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنامرت کی والدہ نے ملبے میں سے ملنے والی خاندان کی فوٹو اٹھا رکھی ہے۔ وہ اب عارضی مکان میں رہتے ہیں۔
رمیں کترا 18 سال کے تھے اور وہ تین روز تک ملبے تلے دبے رہے۔ جب ان کو نکالا گیا تو ان کو کھٹمنڈو کے بیر ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہلے ہی سے لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔ پانچ روز بعد ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ ان کی ٹانگیں کاٹنی پڑیں گی۔
،تصویر کا کیپشنرمیں کترا 18 سال کے تھے اور وہ تین روز تک ملبے تلے دبے رہے۔ جب ان کو نکالا گیا تو ان کو کھٹمنڈو کے بیر ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہلے ہی سے لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔ پانچ روز بعد ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا کہ ان کی ٹانگیں کاٹنی پڑیں گی۔
رمیش کہتے ہیں ’مجھے اپنی نئی زندگی کو اپنان ہی پڑا۔ یہ آسان نہیں تھا لیکن میں کوشش کر رہا ہوں کہ اپنی زندگی کا دوبارہ آغاز کروں۔‘
،تصویر کا کیپشنرمیش کہتے ہیں ’مجھے اپنی نئی زندگی کو اپنان ہی پڑا۔ یہ آسان نہیں تھا لیکن میں کوشش کر رہا ہوں کہ اپنی زندگی کا دوبارہ آغاز کروں۔‘
اگرچہ رمیش ویل چیئر کے تو ماہر ہو گئے ہیں لیکن مصنوعی ٹانگںو سے چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی تیسری ویل چیئر توڑنے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شہر میں ہونے والی تین کلومیٹر کی ریس میں حصہ لیں گے۔
،تصویر کا کیپشناگرچہ رمیش ویل چیئر کے تو ماہر ہو گئے ہیں لیکن مصنوعی ٹانگںو سے چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی تیسری ویل چیئر توڑنے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شہر میں ہونے والی تین کلومیٹر کی ریس میں حصہ لیں گے۔
اس ویل چییر کی ریس میں 21 افراد نے حصہ لیا اور رمیش نے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔ میڈل ملنے پر انھوں نے کہا ’اگلے سال میں اس ریس میں پہلے نمبر پر آؤں گا۔‘
،تصویر کا کیپشناس ویل چییر کی ریس میں 21 افراد نے حصہ لیا اور رمیش نے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔ میڈل ملنے پر انھوں نے کہا ’اگلے سال میں اس ریس میں پہلے نمبر پر آؤں گا۔‘
جس ہاسٹل میں رمیش رہتے ہیں اس کے مالک سمرات سنگھ کا کہنا ہے ’رمیش کی سوچ مثبت ہے۔ وہ ہر وقت کلینک میں ہوتا ہے اور لوگوں کی مدد اور حصلہ افزائی کر رہا ہوتا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنجس ہاسٹل میں رمیش رہتے ہیں اس کے مالک سمرات سنگھ کا کہنا ہے ’رمیش کی سوچ مثبت ہے۔ وہ ہر وقت کلینک میں ہوتا ہے اور لوگوں کی مدد اور حصلہ افزائی کر رہا ہوتا ہے۔‘
سندیش نیپال پولیس سکول میں کھانے کے وقفے پر تھے جب زلزلہ آیا۔ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہ کمرے سے بھاگے۔ لیکن بیرونی دیوار ان پر گری۔ سندیش کہتے ہیں ’پہلے ہم نے بستروں کے نیچے پناہ لینے کا سوا لیکن پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ دیوار میرے اوپر گری اور میں بے ہوش ہو گیا۔‘
،تصویر کا کیپشنسندیش نیپال پولیس سکول میں کھانے کے وقفے پر تھے جب زلزلہ آیا۔ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہ کمرے سے بھاگے۔ لیکن بیرونی دیوار ان پر گری۔ سندیش کہتے ہیں ’پہلے ہم نے بستروں کے نیچے پناہ لینے کا سوا لیکن پھر بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ دیوار میرے اوپر گری اور میں بے ہوش ہو گیا۔‘
ان کی بھی دونوں ٹانگیں ضائع ہو گئیں اور ساتھ ہی ان کو خبر ملی کہ ان کا قریبی دوست ہلاک ہو گیا ہے۔ گھر میں نو ماہ گزارنے کے بعد وہ واپس پولیس سکول میں آئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنان کی بھی دونوں ٹانگیں ضائع ہو گئیں اور ساتھ ہی ان کو خبر ملی کہ ان کا قریبی دوست ہلاک ہو گیا ہے۔ گھر میں نو ماہ گزارنے کے بعد وہ واپس پولیس سکول میں آئے ہیں۔
پولیس سکول میں وہ واحد کیڈٹ ہیں جو معذور ہیں اور پولیس سکول ان کی مدد کر رہا ہے۔ لیکن کمروں اور کلاس روم کے درمیان ایک اونچائی ہے اور سندیش کو اس چڑھائی پر چڑھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ وہ کلاس روم میں پورا دن رہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپولیس سکول میں وہ واحد کیڈٹ ہیں جو معذور ہیں اور پولیس سکول ان کی مدد کر رہا ہے۔ لیکن کمروں اور کلاس روم کے درمیان ایک اونچائی ہے اور سندیش کو اس چڑھائی پر چڑھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ وہ کلاس روم میں پورا دن رہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ہسپتال میں وہ مایوس ہوگئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنوہ کہتے ہیں کہ ہسپتال میں وہ مایوس ہوگئے تھے۔
پھر انھوں نے ویل چیئر کا استعمال شروع کیا۔ ’میرا خیال تھا کہ میں کبھی نہیں چل پاوں گا۔ جب میں پہلی بار کھڑا ہوا میں بے انتہا خوش تھا۔‘ (تمام فوٹوز ایلیسن بیسکرویل/ ہینڈی کیپ انٹرنیشنل)
،تصویر کا کیپشنپھر انھوں نے ویل چیئر کا استعمال شروع کیا۔ ’میرا خیال تھا کہ میں کبھی نہیں چل پاوں گا۔ جب میں پہلی بار کھڑا ہوا میں بے انتہا خوش تھا۔‘ (تمام فوٹوز ایلیسن بیسکرویل/ ہینڈی کیپ انٹرنیشنل)