’ٹرمپ کی جمپ‘: پاکستانی اخبارات کیا کہتے ہیں؟

ٹرمپ
،تصویر کا کیپشناردو کے اخبارات کی طرح پاکستان کے انگریزی کے اخبارات پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی چھائے ہوئے ہیں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

ماضی کے امریکی صدارتی انتخاب کے برعکس اس مرتبہ پاکستانیوں اور یہاں کے میڈیا نے بھی کافی زیادہ دلچسپی دکھائی۔ انتخابی نتائج کی مسلسل خصوصی نشریات کے علاوہ جمعرات کے قومی اخبارات نے دل کھول کر بینر ہیڈ لائنز یا آٹھ کالمی شہہ سرخیاں جمائیں۔

اردو کے ایک اخبار نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت پر حیرانی کا اظہار ’ٹرمپ کا جمپ‘ سرخی لگا کر کیا۔

روزنامہ دنیا نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کی غیرتجربہ کاری انھیں کہیں امریکہ کا گورباچوف ثابت نہ کر دے۔ ’یہ محض امریکیوں کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے سنجیدہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا حالات اور وقت کا اہم تقاضا ہے۔‘

کسی کے ذہن پر یہ سوال بھی چھایا ہوا ہے کہ ٹرمپ کے صدر بن جانے سے کیا تبدیلی آئے گی؟۔ ایک مضمون میں عامر خاکوانی نے لکھا کہ انتخاب میں کامیابی کے بعد ٹرمپ نے اچھی معتدل تقریر کی ہے۔ ’یہ امیدوار ٹرمپ کی نہیں بلکہ ایک سپر پاور کے نو منتخب صدر کی تقریر معلوم ہوتی ہے۔‘

ٹرمپ
،تصویر کا کیپشناردو کے ایک اخبار نے ذونلڈ ٹرمپ کی جیت پر حیرانی کا اظہار 'ٹرمپ کا جمپ' سرخی لگا کر کیا

کئی اردو اخبارات نے اس انتخاب پر خصوصی رنگین صفحات بھی مختص کیے ہیں۔ روزنامہ جنگ نے ’ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس فتح کر لیا‘ کی شہ سرخی اس خصوصی ایڈیشن پر جمائی۔

اپنے اداریے ’ٹرمپ کا امریکہ اور پاکستان‘ میں اخبار اس خدشے کا اظہار کرتا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ’ماضی کے تین امریکی صدارتی انتخابات کے تنائج جو بھی ہوں پاکستان کے ساتھ ’گاجر اور چھڑی‘ کا امریکی کھیل جاری رہا ہے اور اب بھی جاری رہے گا۔‘

اداریے میں امریکہ سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں رقوم کی بندش پر تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے۔ معروف اینکر اور قالم نگار حامد میر نے اپنے مضمون میں لکھا کہ امریکہ کے ساتھ ایک اور نائن الیون ہوگیا ہے۔

اردو کے اخبارات کی طرح پاکستان کے انگریزی کے اخبارات پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی چھائے ہوئے ہیں۔ دی نیشن نے اپنے ادارتی صفحے پر ایک کارٹون میں امریکی بیلٹ باکس کو تارکین وطن پر گرتے ہوئے دکھایا ہے یعنی ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ میں امیگریشن مزید سخت ہوسکتی ہے۔ ’ٹرمپ سٹیلز دی شو‘ کے عنوان سے اپنے اداریے میں اخبار لکھتا ہے کہ یہ انتخاب دراصل عام پاکستانیوں کی متاثر نہیں کرے گا۔ ’بین الاقوامی امداد پہلے ہی کم ہوگئی ہے اور امریکہ جانے کی عمل پر سختیاں پہلے سے کافی ہیں۔ مسلمانوں خصوصاً پاکستانی مسلمانوں پر پہلے سے نظر رکھی جا رہی ہے اور انھیں نوکریاں نہیں مل رہی ہیں۔ ٹرمپ جو کہہ رہے تھے وہ پہلے سے ہو رہا ہے۔‘

ٹرمپ
،تصویر کا کیپشنجس طرح اس مرتبہ کے امریکی انتخاب غیرمعمولی تھے اسی طرح ان کی پاکستان میں کوریج بھی ماضی سے ہٹ کر رہی

دی نیوز نے آج کے اپنے اداریے میں نئے امریکی صدر کو ایک خالی تختی سے تشبیہہ دی ہے۔ ’ٹرمپ خصوصاً خارجہ پالیسی کے سلسلے میں دراصل ایک خالی تختی ہیں۔ اخبار امید کرتا ہے کہ نئی امریکی قیادت ماضی کی دنیا میں نئی جنگیں تلاش کرنے کی روش کو ترک کر دیں گے۔‘

گذشتہ دنوں ایک تحقیقاتی رپورٹ کی وجہ سے مشکل میں گھرے روزنامہ ڈان نے اپنے اداریے میں اس انتخاب کو امریکیوں کی تبدیلی کی خواہش قرار دیا۔ اخبار نے امید کا اظہار کیا کہ نئے صدر ایک ذمہ دار صدر ہوں گے۔

جس طرح اس مرتبہ کے امریکی انتخاب غیرمعمولی تھے اسی طرح ان کی پاکستان میں کوریج بھی ماضی سے ہٹ کر رہی۔