ترقی کا کام وہ کرتا ہے جس کا کوئی وژن ہو: نواز شریف

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
- وقت اشاعت
پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کیچڑ اچھالنے والوں نے نہ صرف اپنا ہی چہرہ اور ہاتھ گندے کیے بلکہ معاشرے کو بھی گندا کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے بلوچستان میں ہوشاب پنجگور سوراب شاہراہ کی افتتاح کے موقع پر کیا۔
اس منصوبے کا آغاز سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے دور میں ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں فنڈز کی اجرا نہ ہونے کی وجہ سے اس پر کام رک گیا تھا۔ تاہم موجودہ حکومت کے دور میں اس پر دوبارہ کام شروع ہوا۔
اس شاہراہ پر مجموعی طور پر 22ارب روپے خرچ ہوئے۔ اس کی تعمیر کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے۔
سرکاری حکام اب اسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ 'نیا بلوچستان بن رہا ہے۔ جب نیا بلوچستان بن رہا ہے تو نیا پاکستان بن رہا ہے۔ اس کو نیا پاکستان کہتے ہیں اور یہ ہے اصل پاکستان۔'
پاناما لیکس پر وزیر اعظم کو جس انداز سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اس موقع پر انھوں نے اپنے مخالفین کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کی۔
انھوں نے کہا کہ ملک اور بلوچستان کی تعمیر کا موقع دوسروں کو بھی ملا ہوگا لیکن انھوں نے اس موقعے کو کھو دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کا کام وہ کرتا ہے جس کا کوئی وژن ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا وژن سے محروم لوگ ایک سڑک سے وابستہ ترقی کے امکانات کو کیا دیکھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری نے پاکستان کے دشمن اور دوست سب کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ دشمن اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں جبکہ دوست اس سے خوش ہیں اور وہ اس کا حصہ ہیں یا حصہ بننے کی خواہشمند ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بعض لوگ قوم کے نوجوانوں میں ہیجان پیدا کر کے اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے اقتدار تک پہنچنے کا ایک راستہ متعین کیا ہے اب اس پر چل کر ہی کوئی اقتدار کی ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اور یہ واحد راستہ عوامی خدمت، سنجیدگی اور تعمیر کا راستہ ہے۔'
'یہ فیصلہ آئین کے مطابق اب عوام کریں گے کہ کون خدمت کررہا ہے۔ کون نوجوانوں کی جذبات سے کھیل رہا ہے ۔ یہ فیصلہ اب 2018 میں ہوگا۔'
ان کا کہنا تھا کہ جن کا کام کیچڑ اچھالنا ہو وہ ایک ہجوم کو تفریح فراہم کرسکتے ہیں مگر قوموں کی تعمیرنہیں کرسکتے۔




















