’معیاد ختم ہونے کے بعد فوجی عدالتوں نے کام بند کر دیا ہے: آئی ایس پی آر

فوجی عدالتیں
،تصویر کا کیپشنرواں سال جنوری کے پہلے ہفتے میں فوجی عدالتوں کی دو سال کی معیاد مکمل ہو گئی ہے
وقت اشاعت

پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے تحت بننے والی فوجی عدالتوں نے اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد کام کرنا بند کر دیا ہے اور دو سال کی مدت میں فوجی عدالتوں نے 274 مقدمات کی سماعت مکمل کر کے مجرموں کو سزائیں دی ہیں۔

اتوار کو پاکستانی فوج کے شعبۃ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جس وقت ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی اُس وقت آئین میں ترمیم کر کے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔جس کے بعد پاکستان کی پارلیمان نے جنوری 2015 کو آئین میں 21ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔

اس ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کو دو سال کے لیے خصوصی اختیارات دیے گئے تھے جس کا مقصد ان سول افراد کا ٹرائل کرنا تھا جن پر دہشت گردی کے الزامات تھے۔

فوج کے بیان کے مطابق اُن دنوں ججوں اور عدالتوں کو بھی دہشت گردی کا سامنا تھا اور عدالتی نظام بہت دباؤ میں تھا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دو سال کے عرصے کے دوران فوجی عدالتوں نے 274 مقدمات کی سماعت مکمل کر کے فیصلے سنائے، جن میں سے 161 مقدمات میں مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی اور 113 مقدمات میں مجرموں کو قید کی سزا ہوئی۔

آئی ایس پی ار کے مطابق 161 مجرموں کے سزائے موت کے فیصلوں میں 12 مجرموں کو اب تک پھانسی دی گئی ہے۔

پاکستان، فوج، وزیراعظم
،تصویر کا کیپشنپارلیمان نے جنوری 2015 کو آئین میں 21 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی تھی

فوج کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں میں آنے والے تمام مقدمات کی سماعت کے دوران انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے اور ان عدالتوں کی جانب سے سنائے جانے والے فیصلوں سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی کرنے میں مدد ملی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اپنے مدت مکمل ہونے کے بعد فوجی عدالتوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جنوری کے پہلے ہفتے میں فوجی عدالتیں اپنی معیاد مکمل ہو گئی ہے۔