’چلو چلو اڈیالہ جیل چلو‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک جمعرات کے روز ہر ایک اور بالخصوص میڈیا کی نگاہوں کا مرکز تھی کیونکہ اس روز ملک کی دو بار منتخب ہونے والی وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کا فیصلہ سنایا جانا تھا۔ یہ فیصلہ مقدمہ درج ہونے کےنو سال آٹھ ماہ کے بعد سنایا جانا تھا۔
ذرائع ابلاغ کے دوسرے ساتھیں کی طرح میں بھی صبح آٹھ بجے کے قریب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پہنچ گیا کیونکہ اس سے ایک روز پہلے متعقلہ عدالت کے جج محمد اصغر خان کو صحافیوں نے ایک درخواست دی تھی کہ چونکہ اس مقدمے کا فیصلہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سنایا جانا ہے اور وہاں ہر میڈیا کے نمائندوں کی رسائی نہیں ہے، اس لیے کوئی مناسب انتظام کیا جائے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ’مہربانی‘ فرماتے ہوئے اپنے سٹاف کے ایک اہلکار کو صحافیوں اور ان کی تنظیموں کے نام درج کرنے کا حکم دے دیا۔
اس مقدمے کے دو ملزمان، جن میں سعود عزیز اور خرم شہزاد، بھی صبح نو بجے کے قریب پولیس کے پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پہنچ گئے۔ ملزم سعود عزیز گزشتہ ماہ 24 تاریخ کو ایڈشنل آئی جی پنجاب پولیس کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں جبکہ خرم شہزاد اس وقت راولپنڈی میں ایس ایس پی سپیشل برانچ کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ملزم سعود عزیز، جو اب مجرم قرار دیے جاچکے ہیں، کمرہ عدالت میں تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد اُٹھ جاتے اور بڑی بےقراری میں باہر چکر لگانا شروع کردیتے۔ اگرچہ وہ پانچ گھنٹے تک عدالت میں بھی موجود رہے، لیکن اُنھوں نے وہاں بھی یہ عمل کئی بار دھرایا۔ اس کے برعکس ملزم خرم شہزاد جن کو اب مجرم گردانا جائے، پرسکون دکھائی دیے۔
ایس ایس پی سپیشل برانچ کی حثیت سے وہ اپنی ذمہ داریاں بھی بنھا رہے تھے اور اُن کے بقول روالپنڈی پولیس کے سربراہ کو آگاہ کیا گیا تھا کہ چونکہ اس مقدمے میں رفاقت اور حسنین گل جیسے خطرناک دہشت گرد موجود ہیں اور ان کی وجہ سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد انسداد دہشت گردی کے جج کی گاڑی پر حملہ کرسکتے ہیں، اس لیے عدالت سے لیکر اڈیالہ جیل تک سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے جائیں۔
خود ایس ایس پی خرم شہزاد نے بھی سپیشل برانچ کے درجنوں اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کی گاڑی کے روٹ پر تعینات کیا ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چھ گھنٹے کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فیصلہ سنانے کے لیے اس وقت اڈیالہ جیل کی جانب روانہ ہوئے جب مجرم خرم شہزاد اور دیگر پولیس افسران نے معزز جج کو بتایا کہ سیکیورٹی کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
ایس ایس پی خرم شہزاد اور سابق ایڈشنل آئی جی سعود عزیز مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے اڈیالہ جیل جانے لگے تو اُنھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’چلو چلو اڈیالہ جیل چلو‘ جس کے بعد دونوں افراد اڈیالہ جیل کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب یہ دونوں اڈیالہ جیل کے گیٹ پر پہنچے تو وہاں پر موجود سیکیورٹی کے عملے نے اُنھیں روک لیا اور جب اُنھوں نے اپنا تعارف کروایا اور یہ کہا کہ وہ اس مقدمے کے ملزمان میں شامل ہیں تو پھر اُنھیں اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
عدالتی فیصلہ سنانے کے لیے جب انسداد دہشت گردی کے جج اڈیالہ جیل روانہ ہوئے تو ان کے پیچھے پیچھے میڈیا کی گاڑیاں بھی چل پڑیں۔ صحافی ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے کہ جب جیل کے اندر جائیں گے تو مختلف انداز سے ’سٹوریاں‘ کریں گے۔
مجھ سمیت دیگر تمام صحافیوں کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب وہاں پر موجود جیل کے عملے نے صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت یہ کہہ کر نہیں دی کہ اُن کے پاس ایسا کوئی حکم نامہ نہیں ہے۔
مختصر فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی عملے کے ایک اہلکار نے باہر آکر میڈیا کو فیصلے سے آگاہ کیا۔ جس وقت یہ فیصلہ سنایا گیا اس وقت اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک درجن سے بھی کم کارکن موجود تھے۔
فیصلے کے بعد جب وکلا صحافیوں سے باتیں کر رہے تھے تو ان کے پیچھے کھڑا ایک پولیس اہلکار دور کھڑے ہوئے اپنے دوسرے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا ’میرے کار فون کردے تے اوہناں نوں دس کہ میں ٹی وی تے آریا واں‘ ( میرے گھر والوں کو فون کردو اور اُنھیں بتاو کہ میں ٹی وی پر آرہا ہوں)۔



















